انوارالعلوم (جلد 6)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 449 of 603

انوارالعلوم (جلد 6) — Page 449

سکتا ہے اگر امیر ہے تو بدلا دینے میں زیادہ دے سکتا ہے اور اگر نوکر ہے تو کام کرنے میں زیادتی کرسکتا ہے۔مگر بعض ایسے بھی ہوتے ہیں جو نہ کسی کے نوکر ہوسکتے ہیں نہ ان کے کوئی نوکر ہوسکتے ہیں۔جیسے نابینا وغیرہ ان کی بھی رحیمیت ہے اور وہ یہ کہ جو اچھے کام کرنے والے لوگ ہیں انکی لوگوں میں قدر بڑھائیں۔اس طرح کام کرنے والوں کا دل بڑھتا ہے اور وہ اور زیادہ اچھا کام کرسکتے ہیں۔یہ نہیں کہا جاسکتا کہ کسی کا دل بڑھانے سے کیا فائدہ ہوسکتا ہے لوگ اچھی رائے حاصل کرنے کے لئے بہت سا مال و دولت خرچ کردیتے ہیں۔حضرت مسیح موعودؑ سنایا کرتے تھے کہ ایک عورت نے ایک انگوٹھی بنوائی وہ اسےدوسری عورتوں کو دکھانے کی بہت کوشش کرتی رہی مگر کسی نے توجہ نہ کی۔آخر اس نے اپنے مکان کو آگ لگا دی اورجب عورتیں افسوس کرنے کے لئے اس کے پاس آئیں اور پوچھا کچھ بچا بھی تو کہنے لگی اس انگوٹھی کے سوا اور کچھ نہیں بچا ایک عورت نےپوچھا یہ تم نے کب بنوائی تھی؟ یہ تو بہت خوبصورت ہے اس نے کہا اگر کوئی پہلے یہی بات کہہ دیتا تو میرا گھر کیوں جلتا۔غرض صرف منہ کی بات بھی بڑا اثر رکھتی ہے کس کو ایک کام کرنے پر سو روپیہ دو لیکن ساتھ ہی اس کی مذمت کردو تو اسے کبھی خوشی نہ حاصل ہوگی یا چپ رہو تو بھی اس کا حوصلہ پست ہوجائے گا۔پس جو قومیں خدا کی رحیمیت کو جذب کرنا چاہتی ہیں ان کا کام ہے کہ خود رحیم بنیں جو ان کے کارکن ہوں ان کی قدر کریں ان کےکام کی تعریف کریں زبان سے بدلا دینامعمولی بات نہیں ہوتی بلکہ اس میںبہت سے فوائد ہیں مگر اس پر عمل کرنے میں کسی کا کچھ خرچ نہیں ہوتا۔جو کوئی مفید کام کرتا ہے تمہارا فرض ہےکہ اس کی تعریف کرو ہماری جماعت میں ابھی یہ بات پیدا نہیں ہوئی۔ایک شخص ولایت میں دین کی خدمت کر رہا ہوتا ہے اس کی بیوی بچے یہاں پرے ہوئے ہوتے ہیں جیسے تمہاری بیویوں کو خواہشات ہوتی ہیں اسی طرحاس کو بھی ہوتی ہے مگر اس کی بیوی تنہا سوتی اور تنہا ہی اُٹھتی ہے اس کے بچے لاوارثوں کی طرح باپ کی محبت کو ترس رہے ہوتے ہیں کوئی ان کے پاس نہیں ہوتا۔ادھر مبلغ اپنی جگہ پر تنہا ہوتا ہے وہ دین کا کام کرکے جب اپنے مکان میں جاتا ہے تو اسے توقع نہیں ہوتی کہ مکان میں کوئی اس کی ضروریات کو پورا کرنے والا ہوگا بلکہ اسے خود ہی آکر سب کچھ کرنا پڑتا ہے۔مگر لوگ ان باتوں کی ذرہ بھر بھی قدر نہیں کرتے اوراگر کسی سے کوئی غلطی ہوجائے تو عیب نکالنے کے لئے تیار ہوجاتے ہیں۔وہ عیب کو تو دیکھتے ہیں مگر خوبیوں کی طرف توجہ نہیں کرتےاس کا نتیجہ یہ