انوارالعلوم (جلد 6)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 446 of 603

انوارالعلوم (جلد 6) — Page 446

انوار العلوم جلد 1 ہستی باری تعالیٰ جرم کیا ہے بلکہ اس کے حالات اور مجبوریوں کو بھی دیکھے اور اندھا دھند فیصلہ نہ کرے۔ خدا تعالیٰ ہمیشہ ہر کمزوری کی وجہ کو مد نظر رکھتا ہے مثلاً ایک شخص جسے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت مسیح موعود کا پتہ نہ ہو خدا کا قانون اسے کافر تو قرار دے گا مگر خدا تعالیٰ اسے اس وجہ سے میرا نہیں دے گا کیونکہ بوجہ علم نہ ہونے کے اس کے لئے ناممکن تھا کہ ایمان لا سکے ۔ سفارش نہ سو چھٹی بات خدا تعالی یہ کرتا ہے کہ کسی کے خلاف کی یہ کرتا ہے کہ کسی کے خلاف کسی کی سفارش نہیں سنتا تمہارے لئے بھی ضروری ہے کہ کسی کے کہنے پر کسی کے متعلق فیصلہ نہ کرو تمہیں خود خدا نے حج بنایا ہے تم کسی کی کیوں سنو ۔ ر فیصلہ میں رحم کا پہلو غالب ہو ساتویں بات یہ ساتویں بات یہ ہے کہ مذکورہ بالا امور کو مد نظر رکھ کر فیصلہ کرنے کے با وجود خدا تعالیٰ جب فیصلہ کرتا ہے تو اس میں رحم کا پہلو غالب رہتا ہے۔ ذرا گنجائش نکل آئی جھٹ معاف کر دیا تمہیں بھی کسی کی برائی معلوم ہو جو ادنی اور معمولی ہو تو برائی کا فیصلہ ہی نہ کرو بلکہ اس کی نیکیوں کو دیکھ کر حتى الوسع اس کی طرف نیکی منسوب کرو ۔ صفت مالکیت پیدا کرنے کا نتیجہ یہ سات باتیں ہیں جن کا خیال خدا تعالیٰ صفت کا سیمی بای بای من مالکیت کے اظہار کے وقت رکھتا ہے اگر بندہ بھی ان کو مد نظر رکھے تو آہستہ آہستہ اس کے اندر صفت ملک یوم الدین قائم ہو جائے گی اور اسے خدا تعالیٰ سے ایک مشابہت حاصل ہو جائے گی ۔ جب بندہ یہ استعداد پیدا کر لیتا ہے تو وہ مادہ کی طرح ہو جاتا ہے گویا اس میں ترقی کرنے کی قابلیت پیدا ہو جاتی ہے اور اس وقت خدا تعالیٰ کی صفت ملک یوم الدین جو اس درجہ کے آدمی کے لئے منبع فیض ہے اس پر اپنا پر تو ڈالتی ہے اور اس کی روح میں نئی طاقتیں پیدا کر دیتی ہے حضرت میں موعود نے جو یہ لکھا ہے کہ میں پہلے مریم بنا اور پھر عیسیٰ بنا اس کا یہی مطلب ہے کہ آپ کے اندر پہلے خدا تعالیٰ کی صفات کا اثر قبول کرنے کی قابلیت پیدا ہوئی بعد میں خدا تعالیٰ کے بالمقابل صفت کے اتصال سے نئی قوتیں حاصل ہوئیں جو عیسوی قوتوں سے مشابہ تھیں یا اس حالت کی مثال تیار شدہ زمین کی سمجھ لو ۔ جب سالک کی حالت اس طرح کی ہو جاتی ہے تو خدا تعالیٰ کی ملک یوم الدین والی صفت اس پر اثر ڈالتی ہے بعینہ اسی طرح جس طرح مرد عورت ملتے ہیں یا زمین اور بیج ملتے ہیں اور خدا تعالیٰ کی صفات ایسی نہیں کہ وہ کسی پر پر تو