انوارالعلوم (جلد 6)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 415 of 603

انوارالعلوم (جلد 6) — Page 415

رؤیت الٰہی سے مراد کیا ہے؟ وہ لوگ جو کہتے ہیں کہ دونوں جہان میں خدا کو دیکھنا ناممکن ہے ان کو ہم کہتےہیں تمہارے اس خیال کی بنیاد اس بات پر ہے کہ خدا وراءالوریٰ ہے لیکن سوال یہ ہے کہ رؤیت الٰہی سے مرادکیا ہے؟ آیایہ کہ انسان خدا کی ذات پر محیط ہوجائے اگر یہ ہے تو ٹھیک ہے کہ اس طرح خدا کو کہیں بھی نہیں دیکھ سکتا پھر رؤیت الٰہی سے یہ بھی مراد نہیں ہوسکتی کہ خدا تعالیٰ کی صورت نظر آئے کیونکہ جو لوگ رؤیت کے قائل ہیں وہ خدا تعالیٰ کی کوئی صورت تسلیم نہیں کرتے ان کی مراد اگر رؤیت الٰہی سے کچھ ہے تو یہی کہ خدا تعالیٰ کی صفات تنزّل اختیار کرکے تمثیلی صورت میں آتی اور انسان ان کا جلوہ دیکھتا ہے یا یہ کہ اپنے قلب میں انسان خدا تعالیٰ سے ایک ایسا روحانی اتصال پاتا ہے کہ اسے سوائے دیکھنے کے اور کسی چیز سے تشبیہہ نہیں دے سکتا اور اس قسم کی رؤیت کو کوئی رد نہیں کرسکتا۔اس طرح اور کئی چیزوں کو انسان دیکھ لیتے ہیں۔مثلاً علم اورحیا شکل اختیار کرکے آجاتی ہیں اور ہم دیکھ لیتے ہیں حالانکہ علم اورحیا معانی ہیں اجسام نہیں۔پس اگر خدا تعالیٰ کی بعض صفات اگر بطور تنزل بندے کے لئے متمثل ہوں یعنی تمثیلی زبان میں ان پر بندہ کو آگاہ کیاجائے تو یہ بات بندہ کے لئے اسی طرح مفید ہوگی جس طرح کسی وجود کا دیکھنا مفید ہوسکتا ہے اوراگر قلب پر صفات الٰہیہ کی تجلّی ہو تو یہ بھی ویسی ہی بلکہ اس سے بڑھ کر مفید ہوگی۔موٹی مثال ہے کلام اللہ نازل ہوتاہے ہم اسے پڑھ جاتے ہیں اس کے بعد لفظ تو غائب ہوجاتے ہیں مگر ایک بات انسان کے اندر پیدا ہوجاتی ہے جو ہمیشہ اس کے ساتھ رہتی ہے پس معانی کا شکل اختیار کرنا کوئی بعید بات نہیں۔اسی طرح خدا تعالیٰ کی صفات کو تصویر زبان میں دکھا دیا جانا بھی ناممکن ہے۔حضرت موسیٰؑ اور رؤیتِ الٰہی وہ لوگ جو کہتے ہیں کہ اگلے جہان میں خدا کی رؤیت ہوسکے گی اس جہان میں نہیں ہوسکتی وہ مندرجہ ذیل آیت کو بطور دلیل پیش کرتے ہیں کہ وَلَمَّا جَاۗءَ مُوْسٰي لِمِيْقَاتِنَا وَكَلَّمَہٗ رَبُّہٗ۰ۙ قَالَ رَبِّ اَرِنِيْٓ اَنْظُرْ اِلَيْكَ۰ۭ قَالَ لَنْ تَرٰىنِيْ وَلٰكِنِ انْظُرْ اِلَى الْجَـبَلِ فَاِنِ اسْـتَــقَرَّ مَكَانَہٗ فَسَوْفَ تَرٰىنِيْ۰ۚ فَلَمَّا تَجَلّٰى رَبُّہٗ لِلْجَبَلِ جَعَلَہٗ دَكًّا وَّخَرَّ مُوْسٰي صَعِقًا۰ۚ فَلَمَّآ اَفَاقَ قَالَ سُبْحٰنَكَ تُبْتُ اِلَيْكَ وَاَنَا اَوَّلُ الْمُؤْمِنِيْنَ (الاعراف : ۱۴۴) وہ کہتے ہیں دیکھو قرآن سے ثابت ہے کہ حضرت موسیٰؑ خدا کے پاس گئے اور جاکر کہا اے خدامجھے اپنا وجود دکھا اللہ نے