انوارالعلوم (جلد 6) — Page 414
کو پیدا کرلے۔اسی طرح جب رحمٰن کی صفت سنے تو اس صفت کو اپنے اندر محفوظ کرلے۔ورنہ اس کا یہ مطلب نہیں کہ جو خدا کے ننانوے نام یاد کرلے وہ جنّت میں چلا جائے گا کیونکہ اس طرح تو جنت ایک کھیل بن جاتا۔پس حق یہی ہے کہ حفظ کے معنے محفوظ کرلینے اورباہر نہ نکلنے دینے کے ہیں اوراس کا یہ مطلب ہے کہ انسان سبحان ،قدیر ،رحمٰن ،رحیم وغیرہ بن جائے اور وہ انسان جو اپنے اندر خدا تعالیٰ کی ننانوے صفیں پیدا کرلے گا وہ جنت میں نہ جائے گا تو پھر اور کون جائے گا۔رؤیت الٰہی جب اس بات کا پتہ لگ جائے کہ انسان خدا تعالیٰ سے تعلق پیدا کرسکتا ہے تو عالم ہی بدل جاتا ہے۔پہلے تو یہی سوال تھا کہ خدا ہے یا نہیں؟ اوراگر ہے تو اس کی کیا صفات ہیں؟ جب صفات کا پتہ لگا تو ان پر غور کیا کہ ان کا ہم پر کیا اور کس طرح اثر پڑتا ہے؟ پھر جب معلوم ہواکہ وہ نہایت وسیع ہیں اورپھر یہ معلوم ہوا کہ وہ نہایت وسیع ہیں اورپھریہ معلوم ہوا کہ وہ صفات میرے اندر آسکتی ہیں اور اس طرح خدا تعالیٰ سے تعلق پیدا ہوسکتا ہے تو اس مقام پر انسان کے خیالت میں عجیب تغیر پیدا ہوجائے گا۔اس وقت اس کی حالت ایسی ہی سمجھ لو جیسے کسی بچہ کو شہر میں لے جائیں وہ ضرور کہے گا کہ میں یہ چیز بھی لے لوں اور یہ بھی لے لوں۔اسی طرح بندہ کا حال ہوگا جب مذکورہ بالا طاقتوں والا خدا ثابت ہوگیا تو اس کے دل میں طبعاً خواہش ہوگی کہ مَیںاسےدیکھوں اور اس کا قرب حاصل کروں اور وہ ضرور سوال کرے گا کہ کیا رئویتِ الٰہی حاصل ہوسکتی ہے یا نہیں؟ اس سوال کے کئی جواب ہیں اس لئے کہ پچھلے علمائے روحانی میں اس کے متعلق اختلاف ہوا ہے بعض کا خیال ہے کہ رئویت الٰہی ناممکن ہے کیونکہ خدا وراء الوریٰ ہے اور بدہ مادی ہستی ہے اس لئے ناممکن ہے کہ بندہ خدا کو دیکھ سکے۔بندہ بندہ ہے اور خدا خدا۔پس رئویت الٰہی بندہ کے لئے نہ اس دنیا میں ممکن ہے اورنہ اگلی دنیا میں کیونکہ وہاںبھی وہ بندہ ہی رہے گا پھر وہ کہتے ہیں کہ اگر کوئی خواب میں خدا کو دیکھے تو شیطان دھوکا دینے کے لئے اسے دکھائی دیتا ہے۔۲ - بعض کہتے ہیں کہ اس جہان میں انسان خدا کو نہیںد یکھ سکتا لیکن اگلے جہاں میں دیکھ لے گا۔۳ - بعض کہتے ہیں کہ دونوں جہان میں خدا کو دیکھنا ممکن ہے یہاں بھی انسان خدا کو دیکھ سکتا ہے اوراگلے جہان میں بھی دیکھے گا۔