انوارالعلوم (جلد 6)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 413 of 603

انوارالعلوم (جلد 6) — Page 413

چوری ظاہر ہوجائے گی۔اسی طرح خدا تعالیٰ کی غفاری کی صفت ہے اگر انسان بدی کے ساتھ نیکی کرتا رہے یا بد پر ہیزی کے ساتھ علاج کرتا رہے تو اس صفت کا اثر ظاہر ہوتا ہے اورایک حد تک بد نتائج سے انسان بچتا رہتا ہے۔دوسرا ظہور ان صفات کا شرعی ذرائع سے ہوتا ہے جیسے مثلاً دُعا سے۔دعا طبعی قانون کا جزءنہیں بلکہ شرعی قانون کا جزء ہے اور اس کےذریعہ سے بھی خدا تعالیٰ کی وہ صفات جو خاص اوقات میں ظاہر ہوتی ہیں جلوہ گری کرتی ہیں بلکہ حق یہ ہے کہ اس ذریعہ سے جس قدر صفات الٰہیہ کو متحرک کیاجاسکتا ہے اس قدر قانون طبعی کےذریعہ سے بھی نہیں کیاجاسکتا۔غرض خدا تعالیٰ کی صفات مختلف دائروں میں عمل کررہی ہیں اگر ان کو مد نظر نہ رکھا جائے تو صفات الٰہیہ کے ظہور کا مسئلہ مشتبہ ہوجاتا ہے۔کیا خدا سے تعلق ہوسکتا ہے ؟ خد اتعالیٰ کے متعلق ان معلومات کے حاصل ہونے کے بعد جو اوپر بیان کی گئی ہیں طبعاً انسان کے دل میں سوال پیدا ہوتا ہے کہ ایسے خدا سے میرا بھی کوئی تعلق پیدا ہوسکتا ہے؟ اسلام کہتا ہے کہ ہاں ہوسکتا ہے اور اس کا طریق یہ ہے کہ تَخَلَّقُوْا بِاَخْلَاقِ اللہ ِ خدا کے اخلاق اپنے اندر پیدا کرو۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں اِنَّ اللہَ وِتْرٌ یحِبُ الْوِتْرَ۔٭خدا وتر ہے اور وتر کو پسند کرتا ہے۔پھر فرمایا اِنَّ اللہَ… جِمِیْلٌ یُحِبُّ الْجَمَالَ٭کہ خدا خوبصورت ہے اور خوبصورتی کو پسند کرتا ہے۔اس سے معلوم ہوتا ہے کہ بندہ کا خدا سے تعلق پیدا کرنا جائز رکھا گیا ہے اورطریق یہ بتایا ہے کہ انسان خدا کی صفات کو اپنے اندر لے اوراپنے اوپر منعکس کرے اسی طرح ایک اورحدیث ہے کہ خدا تعالیٰ کے ننانوے نام ہیں جو شخص ان کو یاد کرے وہ جنت میں جائے گا حفظ کے معنے محفوظ کرنے کے ہیں اورضائع نہ کرنے کے۔اس لئے حدیث کا یہ مطلب ہے کہ جب انسان خدا کی صفت غفاری کا لفظ سُنے تو اُسے ضائع نہ ہونے دے بلکہ اپنے اندر اس کے مفہوم *ترمذی أبواب الوتر باب ماجاء ان یوتر لیس بحثم*مسند احمد بن حنبل جلد ۴ ص ۱۵۱ *بخاری کتاب التوحید باب ان اللہ مائة اسم الا واحدة