انوارالعلوم (جلد 6) — Page 408
انوار العلوم جلد 4 ۴۰۸ ہستی باری تعالیٰ اپنی مرضی سے رکھتا ہے ۔ سو اس مشابہت سے بتایا کہ خدا تعالیٰ تھک کر اپنی صفات کو نہیں چھوڑتا اور نہ اس میں نئی طاقت آجاتی ہے تو ان کو جاری کرتا ہے بلکہ اپنی مرضی سے اور اپنی خاص حکمت سے صفات کو جاری کرتا یا روکتا ہے۔ تیسری بات اس مشابہت سے یہ بتائی ہے کہ خدا تعالیٰ کی صفات قہر بہ ہمیشہ روحانی تاریخی کے وقت جاری ہوتی ہیں کیونکہ یہ الہام صفات قہر یہ کے متعلق ہے اور یہ صفات روحانی صفائی پیدا ہونے پر روک لی جاتی ہیں کیونکہ صوم یعنی رکھنے کا وقت نور کے شروع ہونے سے شروع ہوتا ہے اور افطار ظلمت کے شروع ہونے ہے ۔ تو گویا اس مشابہت کے ذریعہ سے حضرت مسیح موعود کو اس الہام میں عذاب کے متعلق بتایا گیا کہ جب نیکی اور تقویٰ ہوتا ہے تو خدا تعالیٰ عذاب دینے کی صفات کو روک دیتا ہے اور جب ظلمت اور تاریکی پھیل جاتی ہے لوگ گنا ہوں اور بدکاریوں میں بکثرت مبتلا ہو جاتے ہیں تو ان صفات کو چھوڑ دیتا ہے تاکہ لوگ تباہ و برباد ہوں ۔ اب دیکھو کتنی وسیع اور پر حکمت تعلیم اس میں بیان کی گئی ہے کہ جب نور جاری ہوتا ہے تو خدا تعالیٰ عذاب کی صفتوں کو روک دیتا ہے اور جب بدی پھیل جاتی ہے تو ان کو کہہ دیتا ہے کہ اب تمہارا دور جاری ہو جائے ۔ الہام مسیح موعود کے ایک اور معنے پھر خدا کی صفت خلق قائم مقام نور ہے اور عدم قائم مقام ظلمت ۔ چنانچہ عربی میں خلق علق بھی کہتے ہیں اور فلق کے منے پو پھٹنے کے ہیں۔ گو یا مخلوق بھی نور ہوتی ۔ ہوتا ہے ؟ کچھ نہ ہونا ۔ اب ہونا تو روشنی ہوئی اور نہ ہونا اندھیرا۔ اس لئے انطِرُ وَ اصُومُ کے یہ معنی ہوئے کہ خدا کی بعض صفات ایسی ہیں جو عدم کے وقت جاری ہوتی ہیں اور بعض وجود ہ خدا کی بعض صفات ایسی ہیں جو عدم کے وقت جاری ہوتی ہے کے وقت جیسے کہتے ہیں کہ اب مادہ کو خدا کیوں نہیں پیدا کرنا اسی لئے کہ جب عدم تھا تو خدا تعالیٰ کی مادہ کو پیدا کرنے کی صفت جاری ہو گئی اور جب وجود میں آگیا تواب مخلوق کے قائم رکھنے کی صفات جاری ہوگئیں۔ تو یہ کتنا بڑا علم ہے جو حضرت مسیح موعود کے اس الہام سے ظاہر ہوا۔ اب دشمن اس پر اعتراض کرتے ہیں کہ کیا خدا بھی کھانا کھاتا ہے کہ اس نے چھوڑ دیا۔ ہم کہتے ہیں معترض نادان ہیں جو خدا کے کلام کے معارف نہیں جانتے ۔ خدا تعالیٰ نے ایسا علم حضرت مسیح موعود کے ذریعہ دیا ہے اور آپ نے وہ غوامض بیان فرمائے ہیں جو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد تیرہ سو سال میں