انوارالعلوم (جلد 6) — Page 399
انوار العلوم جلد 4 کے بدلے کیا ملا ؟ ۳۹۹ هستی باری تعالی اس کا جواب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی کے عمل کو ضائع نہیں کرتا ۔ اس عالم کا ذرہ ذرہ خدا تعالیٰ کے حکم میں لگا ہوا ہے اور اس کے حکم کے ماتحت کام کر رہا ہے اور ہر ایک ذرہ اجر کا ستحتی ہے۔ اس لئے نہیں کہ وہ اس کا حق دار ہے بلکہ اس لئے کہ خدا نے اس کا حق مقرر کر دیا ہے وہ حق دار تو نہیں مگر اسے حق مل رہا ہے ۔ دیکھو وہی ذرہ جو ایک بکری میں ہو اس بکری کے ذبح ہونے پر اگر وہ ذرہ ایک بہت بڑے مصلح یا نفع رسال وجود کے جسم کا حصہ بن جائے تو کیا یہ اس کا انعام نہیں اور کیا وہ اس ذریعہ سے ایک بلند مقام پر نہیں پہنچ گیا ؟ سے ایک مقام پرنہیں گیا ؟ ہر چیز کو بدلا ملے گا قانون قدرت ہمیں بتاتا ہے کہ ہر چیز کواس کے عمل کے مطابق بدلہ مل رہا ہے سروائیول آف دی فٹسٹ یا بقائے انسب کا قانون صاف بنا رہا ہے کہ ہر چیز اپنا بدلہ پا رہی ہے خواہ گھانس کی پتی ہی کیوں نہ ہو۔ ہاں بدسے رہی ہے اپنی اپنی حالت کے مطابق ہوتے ہیں۔ انسانی حس چونکہ سب دوسری چیزوں سے ترقی یافتہ ہے انسان کا بدلہ بھی دائمی اور ابدی ہے دوسری چیزوں کی حسیں چونکہ بالکل محدود ہیں اس لئے ان کے بدلے بھی محدود ہیں گو بدلے ہیں ضرور ۔ قرآن کریم میں خدا تعالیٰ فرماتا ہے دَمَا مِنْ دَابَّةٍ فِي الْأَرْضِ وَلَا طَبِرٍ تَطِيرُ بِجَنَاحَيْهِ إِلَّا أُمَمٌ أَمْثَالكم - (الانعام : ۳۹) زمین پر چلنے یا رینگنے والے جانور یا ہوا میں اڑنے والے پرندے سب کے سب تمہاری طرح کی امتیں ہیں جو تمہاری طرح ایک جنس ہم نے اپنے فیصلہ میں کسی قسم کی بھی کمی نہیں کی پھر یہ سب ایک دن اپنے رب کے حضور میں پیش کئے جائیں گے کسی وضاحت سے اس آیت میں بتایا گیا ہے کہ سے میں انسان کے سوا دوسرے حیوان بھی اپنے فرائض کی ادائیگی پر بدلے پائیں گے ۔ ہاں وہ بدلہ ان کی اپنی جنس کی طاقتوں کے مطابق ہو گا نہ انسان کی طرح کا پس یہ غلط ہے کہ انسان کو اپنے کے اعمال کا بدلہ ملے گا اور ان چیزوں کو نہیں ملے گا سب کو ملے گا۔ چنانچہ حدیث میں آتا ہے کہ اگر ایک بکری نے دوسری بکری کا سینگ توڑا تو قیامت کے دن دوسری سے خدا تعالیٰ کہے گا کہ تو اس کا سینگ توڑی تو کوئی روح ایسی نہیں ہو سکتی جو جزاء نہ پائے ہاں جیسی جیسی روح ہو گی ویسی ویسی اس کو جزاء ملے گی ۔ ہمیں سب کی تفصیلوں میں پڑنے کی ضرورت نہیں۔ غرض کوئی ایسی شئے نہیں جو بدلہ نہ پائے گی ۔ لیکن انسان چونکہ کامل ہے اس لئے یہ ابدی نجات پائے گا اور دوسری چیزیں کامل نہیں اس لئے ان کو ابدی زندگی نہیں ملے گی ۔ دیکھو جو مسند احمد بن منیل جلد ۲ صفحه ۲۳۵