انوارالعلوم (جلد 6) — Page 387
انوار العلوم جلد 4 کا خالق ہے۔ ۳۸۷ هستی باری تعالی ان چاروں حدود سے مادہ کا مخلوق ہونا ثابت ہو گیا ۔ اب بھی اگر کوئی کہے کہ خدا نے مادہ کو پیدا نہیں کیا تو نہی کہیں گے کہ یہ خیال تمہاری سمجھ کے قصور سے پیدا ہوا ہے۔ خدا تعالیٰ کی بعض صفات پر اعتراضات اور ان کے جواب اب میں چند موٹے موٹے اعتراضات جو صفات الہیہ پر کئے جاتے ہیں انہیں لے کر ان کے جواب دیتا ہوں یہ اعتراضات زیادہ تر دہریوں کی طرف سے کئے جاتے ہیں اور بعض فلسفیوں کی طرف سے جو گو خدا کے قائل ہیں مگر قادر و قدیر خدا کو ماننے سے گھبراتے ہیں ۔ جو کےقائل ہیں کو سے پہلا اور اصولی سوال خدا تعالیٰ کی صفات رحمت ال خدا خدا تعالیٰ کی صفات رحمت پر اعتراض کیا جاتا ہے کہ اگر خداتعالی واقع میں پر ہے اپنی صفات رحمت کا مالک ہے جو اس کی طرف منسوب کی جاتی ہیں تو کیا سبب ہے کہ دنیا میں قسم قسم کی بلائیں اور تکالیف نظر آتی ہیں۔ کیا وجہ ہے کہ اس نے شیر چیتے سانپ اور اسی قسم کے اور موذی جانور پیدا کئے ہیں ؟ اہل یورپ کا جواب یورپ والے تو اس کا یہ جواب دیتے ہیں کہ دا کوجو کچھ مل سکا اس سے جو بہتر صورت بنی وہ اس نے بنا دی۔ اس میں اس کا کیا قصور ہے۔ جیسا مادہ تھا ویسی چیز بنا دی۔ مادہ کا پیدا کرنا اس کے اختیار میں نہ تھا اس لئے اس نے جو اچھی سے اچھی صورت ہو سکتی تھی وہ بنادی۔ گویا ان لوگوں نے اس اعتراض کو دور کرنے کے لئے خدا تعالیٰ کی قدرت کا ہی انکار کر دیا ہے ۔ بعض اہلِ یورپ یہ جواب دیتے ہیں کہ ان بحثوں میں پڑنا فضول ہے ۔ واقع یہ ہے کہ خدا کا رحم قانون قدرت میں نظر آتا ہے اسی طرح شیر و چیتے بھی نظر آتے ہیں۔ یہ واقعات سب کے سامنے ہیں وجہ دریافت کرنے کی ہمیں کوئی ضرورت نہیں۔ اہل ہند کا جواب اہل ہند نے اس سوال کو اس طرح حل کیا ہے کہ خدا نے شیر چیتے یونٹی نہیں بنائے ۔ جن روحوں سے قصور ہو گئے۔ ان کو بطور منرا سے قصور لا کے ایسے جانور بنا دیا ۔ اس سے خدا کے عدل اور رحم پر کوئی حرف نہیں آتا ۔ کیونکہ ہر ایک چیز اپنے اپنے اعمال کی وجہ سے اچھی اور بری بنی ہے ۔ اگر شیر بکری کو کھاتا ہے ۔ تو اس کی وجہ یہ ہے کہ اگلے سے اگر کھاتا ہے۔ تواس یہ