انوارالعلوم (جلد 6)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 387 of 603

انوارالعلوم (جلد 6) — Page 387

کا خالق ہے۔ان چاروں حدود سے مادہ کا مخلوق ہونا ثابت ہوگیا۔اب بھی اگر کوئی کہے کہ خدا نے مادہ کو پیدا نہیں کیا تو یہی کہیں گے کہ یہ خیال تمہاری سمجھ کے قصور سےپیدا ہوا ہے۔خدا تعالیٰ کی بعض صفات پر اعتراضات اوران کے جواب اب میں چند موٹے موٹے اعتراضات جو صفاتِ الٰہیہ پر کئے جاتے ہیں انہیں لے کر ان کے جواب دیتا ہوں یہ اعتراضات زیادہ تر دہریوں کی طرف سے کئے جاتے ہیں اوربعض فلسفیوں کی طرف سے جو گو خدا کے قائل ہیں مگر قادر و قدیر خدا کو ماننے سے گھبراتے ہیں۔خدا تعالیٰ کی صفات رحمت پر اعتراض پہلا اور اصولی سوال خدا تعالیٰ کی صفات رحمت پر ہے کہا جاتا ہے کہ اگر خدا تعالیٰ واقع میں انہی صفات رحمت کا مالک ہے جو اس کی طرف منسوب کی جاتی ہیں تو کیا سبب ہے کہ دُنیا میں قسم قسم کی بلائیں اورتکالیف نظر آتی ہیں۔کیا وجہ ہے کہ اس نے شیر چیتے سانپ اور اسی قسم کے اور موذی جانور پیدا کئے ہیں؟ اہل یورپ کا جواب یورپ والے تو اس کا یہ جواب دیتے ہیں کہ خدا کو جو کچھ مل سکا اس سے جو بہتر صورت بنی وہ اس نے بنادی۔اس میں اس کا کیا قصور ہے۔جیسا مادہ تھا ویسی چیز بنادی۔مادہ کا پیدا کرنا اس کے اختیار میں نہ تھا اس لئے اس نے جو اچھی سے اچھی صورت ہوسکتی تھی وہ بنادی۔گویا ان لوگوں نے اس اعتراض کو دور کرنے کے لئے خدا تعالیٰ کی قدرت کا ہی انکار کردیا ہے۔بعض اہلِ یورپ یہ جواب دیتے ہیں کہ ان بحثوں میں پڑنا فضول ہے۔واقع یہ ہے کہ خدا کا رحم قانون قدرت میں نظر آتا ہے اسی طرح شیروچیتے بھی نظر آتے ہیں۔یہ واقعات سب کے سامنے ہیں وجہ دریافت کرنے کی ہمیں کوئی ضرورت نہیں۔اہل ہند کا جواب اہلِ ہند نے اس سوال کو اس طرح حل کیا ہے کہ خدا نے شیر چیتے یونہی نہیں بنائے۔جن روحوں سے قصور ہوگئےانکو بطور سزا کے ایسے جانور بنا دیا۔اس سے خدا کے عدل اور رحم پر کوئی حرف نہیں آتا کیونکہ ہرایک چیز اپنے اپنے اعمال کیوجہ سے اچھی اور بُری بنی ہے۔اگر شیر بکری کو کھاتا ہےتو اسکی وجہ یہ ہے کہ اگلے