انوارالعلوم (جلد 6)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 386 of 603

انوارالعلوم (جلد 6) — Page 386

صفت مالکیت سے مادہ کے مخلوق ہونے کا ثبوت اب بھی اگر کسی کی تسلّی نہ ہو تو پھر کسی اور صفت کو مستقل قرار دیکر پیمائش شروع کی جاسکتی ہے۔مَیں اس غرض کے لئے خدا تعالیٰ کی صفت مالیکت کو لیتا ہوں۔اس صفت کو ہم بھی مانتے ہیں اور فریقِ مخالف بھی۔اب ہم دیکھتے ہیں کہ ملکیت کس طرح پیدا ہوتی ہے؟ ملکیت یا تو اس طرح پیدا ہوتی ہے کہ کوئی شخص ورثہ سے کوئی چیز حاصل کرتا ہے یا کوئی اسے دیتا ہے یا وہ خریدتا ہے یا خود بناتا ہے یہی چار ذریعے ملکیت کے ہیں یعنی ورثہ ،تحفہ ،خرید اور خلق یا صنعت۔خدا تعالیٰ جو مالک کہلاتا ہے تو کس لحاظ سے آیا اسے مادہ ورثہ میں ملا ہے یا اسے کسی نے تحفہ دیا ہے یا اس نے خرید اہے یا بنایا ہے آریہ لوگ بھی اس امر کو تسلیم نہیں کرتے کہ پہلے تین ذریعوں سے خدا کو مادہ پر ملکیت حاصل ہوتی ہے اس لئے اگر وہ مالک ہے تو ماننا پڑےگا کہ اسے ملکت پیدا کرنے کے سبب سے حاصل ہوئی ہے اور اگر یہ ثابت نہیں ہے تو خدا تعالیٰ مادہ کا مالک نہیں ہے بلکہ نعوذ باللہ غاصب ہے۔خدا تعالیٰ کی دیگر صفات سے مادہ کے مخلوق ہونے کا ثبوت اسی طرح اللہ تعالیٰ کی دوسری صفات لے کر جب اس مسئلہ کو حل کیاجائے تو آخری نتیجہ یہی نکلتا ہے کہ مادہ مخلوق ہے مثلاً خدا قادر ہے آریہ لوگ بھی خدا کو قادر مانتے ہیں اور ہم بھی لیکن اگر خدا مادہ کو پیدا نہیں کرسکتا تو اس کی قدرت کامل نہ ہوئی وہ کہتے ہیں کہ روح و مادہ کا جوڑنا خدا کی قدرت ہے مگر ان کا بنانا اس سے بھی اعلیٰ قدرت ہے اس لئے یہی درست ہے کہ خدا نےمادہ پیدا کیا پھر وہ کہتے ہیں کہ خدا مہربان اور رحیم ہے ہم بھی یہ مانتے ہیں مگر ہم پوچھتے ہیں اگر خدا روح اورمادہ کا خالق نہیں تو اس کا کیا حق ہے کہ روح اور مادے کو کسی سبب سے سزا دے جب وہ اپنے وجود میں اس کے محتاج ہی نہیں تو خدا تعالیٰ کا یہ بھی حق نہیں کہ ان کے لئے کوئی قانون بنائے اورجب اس کا یہ حق نہیں کہ ان کےلئے کوئی قانون بنائے تو اسے یہ بھی حق نہیں کہ اس قانون کے توڑنے پر انہیں کوئی سزا دے۔جورنے جاڑنے سے ہرگز سزا دینے کا کوئی حق حاصل نہیں۔ہوجاتا کیونکہ سزا کا حق تو بادشاہت سےحاصل ہوتا ہے اور وہ اسے حاصل نہیں کیونکہ نہ اس نے روح و مادہ کو پیدا کیا نہ انہوں نے اپنا اختیار اس کے ہاتھ میں دیا۔غرض روح و مادہ کو اگر مخلوق نہ مانا جائے تو خدا تعالیٰ رحیم نہیں بلکہ ظالم قرار پاتا ہے لیکن چونکہ آریہ بھی تسلیم کرتے ہیں کہ خدا رحیم ہے اس لئے ماننا پڑتا ہے کہ خدا تعالیٰ مادہ