انوارالعلوم (جلد 6) — Page 381
کردیتی ہے کہ وہ اپنے آپ کوخدا تعالیٰ کی طرف کھنچتا ہوا محسوس کرتا ہے اگر کسی شخص سے کوئی پوچھے کہ اللہ کون ہے؟ تو وہ یہی کرے گا کہ اس کی صفات گن دے۔کہہ دے کہ وہ رحمٰن ہے رحیم ہے رؤوف ہے خالق ہے مالک ہے۔اس سے معلوم ہوا کہ اس کی ذات کا صحیح تصوّر اس کی صفات ہی کےذریعہ سے ہوتا ہے کیونکہ بندہ کو اس سے تعلق اس کی صفات ہی کے ذریعہ سے پیدا ہوتا ہے ورنہ دوسری اشیاء کو دیکھ کر اصل خیال انہی کا ہوگا نہ کہ خدا کا۔ہم کس طرح تسلیم کرلیں کہ رحمٰن کے لفظ پر غور کرکے یا خدا کی رحمت کے نشانوں پر غور کرکے تو ہمارے دل میں حقیقی جذبہ محبت پیدا نہ ہو لیکن کدو کے خیال کے خدا تعالیٰ کا خیال پیدا ہوجائے۔کیا ہر چیز کو خدا نہ ماننے سے رُئویت الٰہی نہیں ہوسکتی؟ وحدت وجود کے قائل یہ بھی ہوکہتے ہیں کہ اگر ہر چیز کو کدا نہ مانا جائے تو پھر رئویت الٰہی کا انکار ہوجائے گا۔کیونکہ وحدت شہود کے عقیدہ کی رُو سے رؤیت محال ہے حالانکہ رؤیت الٰہی کے سب آئمہ معتقد ہیں۔مگر مَیں یہ کہتا ہوں کہ یہ خیال بالکل باطل ہے رؤیت کا اس عقیدہ سے کچھ بھی تعلق نہیں باوجود خدا تعالیٰ کی ذات کو وراء الوریٰ ماننے کے پھر بھی رئویت ممکن ہے اور ہوتی ہے۔رؤیت یا قلبی ہوتی ہے یا صفات الٰہی کی جلوہ گری کو دیکھ کر یا اس کی صفات کو اپنے اندر جذب کرکے ہوتی ہے اور ان سب صورتوں میں ہرگز یہ ضروری نہیں کہ ہر ذرہ کو خدا سمجھا جائے۔اگر کہا جائے کہ وحدت الوجود والوں کی رؤیت اعلیٰ ہوگی کیونکہ قلب سے بھی اور آنکھ سے بھی تو مَیں کہتا ہوں کہ یہ بھی ایک وسوسہ ہے کیونکہ اگر دنیا کو دیکھ کر خدا کی رؤیت ہوجاتی ہے تو اس میں کمال کیا ہے یہ رؤیت تو چوروں اور ڈاکوؤں کو بھی ہوتی ہے کیا دیدارِ الٰہی ایسی حقیر چیز ہے کہ دل میں یہ خیال کرلینا کہ سب کچھ خدا ہے ہمارے لئے کافی ہوتا ہے۔بس پھر دنیا کی ہر چیز کو دیکھ کر ہمیں رؤیت الٰہی ہوتی رہتی ہے۔وحدت الوجود کا مسئلہ کہاں سے پیدا ہوا ؟ اب میں سوال کے متعلق بتانا چاہتا ہوں کہ یہ مسئلہ پیدا کہاں سے ہوا ہے۔اصل بات یہ ہے کہ باقی تو سب ڈھکوسلے ہیں یہ شبہ فلسفہ کے اس مسئلہ کی وجہ سے ہوا ہے کہ نیست سے ہست کیونکر ہوگیا ؟جو لوگ اس سوال کا جواب نہ دے سکے انہوں نے اس طریق کو اختیار کرلیا کہ دُنیا