انوارالعلوم (جلد 6) — Page 382
میں سب کچھ خدا ہی خدا ہے اور یہ عقیدہ بنا کرانہوں نے صوفیاء کے کلام کے اس قسم کے فقرات کو آڑ بنالیا کہ دنیا میں جو کچھ ہے سب خدا ہی خدا ہے اور سب کچھ خدا کا ہی جلوہ ہے حالانکہ محی الدین ابن عربی ؒ جن کو اس خیال کا بانی قرار دیاجاتا ہے ان کی کتب میں بھی غیر اللہ کے الفاظ آئے ہیں اور صاف معلوم ہوتا ہے کہ وہ اس طرح اس مسئلہ کے قائل نہ تھے۔دراصل یہ دھوکا ہے جوصوفیاءکے کلام کے متعلق دیاجاتا ہے۔کیونکہ جس اعلیٰ درجہ کے صوفی کے کلام کو بھی دیکھا جائے یہی معلوم ہوگا کہ اس قسم کا کلام تشبیہی ہوتا ہے ورنہ دراصل بات یہی ہے ک ہ وہ یہی سمجھتے ہیں کہ خدا اور ہے اور ہم اور۔وحدتِ شہود کا عقیدہ وحدت وجود کے مقابلہ میں وحدت شہود کا عقیدہ ہے اس عقیدے کا ماننے والے کئی فرقوں میں منقسم ہیں اوّل وہ لوگ جو کہتے ہیں کہ خدا اور ہے اور مخلوق اور ہے اور خدا مجسم ہے محدود ہے عرش پر بیٹھا ہے وہ کہتے ہیں کہ خدا تعالیٰ کو ایسا ماننے میں حرج ہی کیا ہے؟ اگر پوچھا جائے کہ کیاخدا کے بھی ہاتھ پاؤں ہیں؟ تو کہتے ہیں ہاں ہیں۔مگر انسانوں کی نسبت اعلیٰ درجہ کے ہیں۔ان کا خیال ہے کہ خدا مجسم ہے اور ان کو مجسّمیّہ کہتے ہیں۔دوسرا فرقہ ایک اورلوگ ہیں جو اہلحدیث کہلاتے ہیں یا وہ جو علوم کو زیادہ تر ظاہر کی طرف لے گئے ہیں وہ کہتے ہیں خدا وراء الوریٰ ہستی ہے جس نے دنیا کو پیدا کیا ہے اور دنیا اس سے علیحدہ چیز ہے۔لیکن باوجود وراء الوریٰ ہونے کے ہم کہتے ہیں کہ وہ عرش پر بیٹھا ہے اسکے ہاتھ بھی ہیں اورپاؤں بھی ہیں گوہم اسے مجسم نہیں مانتے لیکن ہم جائز نہیں سمجھتے کہ جو صفات اسکی قرآن کریم میں آئی ہیں یا حدیثوں میں مروی ہیں انکی کوئی تاویل کی جائے۔تیسرا فرقہ تیسرا فرقہ وہ ہے جو یہ کہتا ہے کہ خدا تعالیٰ وراء الوریٰ ہونےکے ہم اسکے متعلق صرف اس قدر کہہ سکتے ہیں کہ وہ مخلوق سے بالکل الگ ہے اور یہ کہ اسکی صفات مخلوق کی صفات ہے اور طرح کی ہیں ہاتھ وغیرہ کے جو لفظ استعمال ہوئے ہیں یہ سب تشبیہات ہیں۔مخلوق کیا ہے اسکی نسبت بھی یہی کہہ سکتے ہیں کہ اسے خدا نے پیدا کیا ہے ہم نہیں جانتے کہ کس طرح پیدا کیا ہے میرے نزدیک عوام الناس کیلئے اس سے زیادہ محفوظ عقیدہ نہیں ہوسکتا۔چوتھا فرقہ چونکہ تیسرے فرقہ کا جو عقیدہ بتایا گیا ہے گو اپنے ایمان کے لئے کافی ہوسکتا ہے مگر مخالفوں کے حملوں کے جواب میں کچھ نہ کچھ جواب اثباتی پہلو سے بھی دینا پڑتا ہے