انوارالعلوم (جلد 6)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 376 of 603

انوارالعلوم (جلد 6) — Page 376

ہر چیز کو اللہ کہنے والوں کے دلائل کا رد اب میں ان لوگوں کے دلائل کا رد بیان کرتا ہوں۔لَااِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ کے وہ معنے جو یہ لوگ کرتے ہیں بالکل غلط ہیں اِلٰہ کے معنی انہوں نے زبردستی سے کر لئے ہیں اورپھر ان پر اپنے دعویٰ کی بنیاد رکھ دی ہے حالانکہ عربی میں اس لفظ کے دو معنی ہیں ایک تو یہ کہ کوئی معبود ہو سچا ہو یا جھوٹا دوسرے یہ کہ وہ معبود جو سچا ہو جھوٹا نہ ہو قرآن کریم میں ان دونوں معنوں میں یہ لفظ استعمال ہوا ہے مگر انہوں نے یہ معنی لے لئے ہیں کہ کوئی جھوٹا معبود بھی نہیں حالانکہ جب قرآن کریم میں دوسری جگہوں پر صاف بیان ہے کہ لوگ خدا کے سوا اور معبودوں کی پرستش کرتے ہیں تو اِلٰہ کے معنے سچّے معبود کے سوا جائز ہی نہیں کیونکہ صحیح معنی وہی ہوتے ہیں جو بولنے والے کے منشاء کے مطابق ہوں۔اب جو اللہ تعالیٰ دوسری جگہوں میں صاف الفاظ میں بیان فرماتا ہے کہ اس کے سوا بھی لوگ دوسروں کی پاجا کرتے ہیں۔تو لَااِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ کےیہ معنی نہیںکئےجاسکتے کہ اس کے سوا نہ کوئی جھوٹا معبود ہے نہ سچا بلکہ اس کے یہی معنے کئے جائیں گے کہ اس کےسوا کوئی سچا معبود نہیں اور ان معنوں سے ہرگز وحدت وجود کا مسئلہ نہیں نکلتا۔اب کوئی کہے کہ جب اس لفظ کے دو معنی تھے تو وہی کیوں نہ مانے جائیں جو وحدت وجود ی کرتے ہیں اور کیا اس طرح وہ کلمہ جس پر اسلام کی ساری بنیاد ہے مشتبہ نہیں ہوجاتا؟ اس کا جواب یہ ہے کہ ایک لفظ کے مختلف معنی دیکھ کر ہر جگہ پر اس کے تمام معنوں کو استعمال کرنا درست نہیں ہوتا آخر قرآن کریم عربی زبان میں ہے اس زبان کے قواعد کے مطابق ہم فیصلہ کریں گے اور یہ بات کہ ہر لفظ کے ہر معنی ہر جملے میں استعمال نہیں ہوتے۔عربی زبان سے ہی خاص نہیں سب زبانوں کا یہ قاعدہ ہے کہ لفظ کے خواہ کتنے ہی معنے ہوں جب وہ عبارت میں آجائے تو اس کے وہی معنے کئے جاتے ہیں جو اس فقرے کے مضمون سے یا اس کتاب کی دوسری جگہوں کے مفہوم سے نکلتے ہوں نہ کہ تمام معنے جو اس لفظ کے لغت میںنکلتے ہوں۔اب چونکہ یہ ثابت ہے کہ قرآن کریم اس کا بار بار زکر فرماتا ہے کہ مشرک خدا کے سوا اوروں کی پوجا کرتے ہیں تو جب وہ یہ فرماتا ہے کہ خدا کے سوا کوئی معبود نہیں تو ان دوسری آیتوں سے ملا کر اس کے یہی معنی ہوں گے کہ خدا کے سوا کوئی سچّا معبود نہیں اور جب دوسری عبارتوں سے مل کر کلمہ کے معنی واضح ہوجاتے ہیں تو شک و شبہ کا سوال اُٹھ گیا۔دوسری آیت یعنی اَجَعَلَ الْاٰلِھَۃَ اِلٰھًا وَّاحِدًا۔(صٓ :۶) کے بھی وہ معنے نہیں