انوارالعلوم (جلد 6) — Page 373
ہیں جو ملائکہ سے تعلق رکھتی ہیں یا ہم سے تعلق تو رکھتی ہیں لیکن بہشت میں اور اس دنیا کی زندگی سے ان کا کوئی تعلق نہیں اور نہ ان کو ہم یہاں سمجھ سکتے تھے۔خدا کی اور صفات ہونے کا ثبوت کوئی کہے یہ تو خیال ہی ہے ہمیں کس طرح یقین ہوسکتا ہے کہ خدا کی اور صفات بھی ہیں؟ مَیں کہتا ہوں کہ جس سے خدا کی ان صفات کا پتہ لگا جو ہمیں معلوم ہیں اسی سے یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ خدا کی اور صفات بھی ہیں اور وہ ذات با برکات محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی ہے آپؐکی ایک دُعا ہے اَللّٰھُمَّ اِنِّیْ…اَسْئَلُکَ بِکُلِّ اسْمٍ ھٰؤُلٰئِکَ سَمَّیْتَ بِہٖ نَفْسَکَ اَوْ اَنْزَلْتَہٗ فِیْ کِتَابِکَ اَوْ عَلَّمْتَہٗ اَحَدًامِنْ خَلْقِکَ اَوِاسْتَأْثَرْتَ بِہٖ عِلْمِ الْغَیْبِ عِنْدَکَ (مسند احمد بن حنبل جلد نمبر ۱ صفحہ ۴۵۶۔ناشردار الفکر بیروت ایڈیشن دوم ۱۹۷۸)اے خدا مَیں تجھ سے دُعا مانگتا ہوں ان ناموں کےذریعہ سے جو تو نے آپ اپنے لئے تجویز فرمائے ہیںِ یاجونام کہ تُونے اپنے کلام میں نازل فرمائے ہیں ،یا جو تونے اپنی کسی مخلوق کو سکھائے ہیں، یا جو تُونے اپنی ذات میں ہی مخفی رکھے اور کسی کو ان کا علم نہیں دیا۔کتنی لمبی صفات چلی گئیں اورکتنی زبردست دُعا ہے اور یہ اسی کےذہن میں آسکتی ہے جسے معرفت کامل حاصل ہو۔دیکھو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے خدا تعالیٰ کے ان ناموں سے بھی جو معلوم نہیں ان سے فائدہ اُٹھا لیا ہے اوران کے واسطہ دیکر خدا تعالیٰ سے دُعا مانگی ہے۔اس حدیث سے واضح ہوجاتا ہے کہ خدا تعالیٰ کے نام یعنی صفات اوربھی ہیں جو ہم کو معلوم نہیں اور ہم کو کیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی معلوم نہ تھے اور نہ کسی مخلوق کو معولم ہیں ہمیں جو خدا کی صفات معلوم ہیں یہ صرف وہ ہیں جو ہمارےساتھ تعلق رکھتی ہیں۔ان سے زیادہ ہمارے ساتھ اس دنیا میں تعلق رکھنے والی صفات نہیں ورنہ اگر ایک بھی ایسی صفت باقی ہے جو انسانوں سے تعلق رکتھی ہے اور ہمیں معلوم نہیں تو خاتم النبیین ابھی آنے والا ہے مگر خاتم النبیین چونکہ آگیا ہے اس لئے خدا تعالیٰ کی وہ تمام صفات جو اس دنیا سے تعلق رکھتی ہیں وہ سب اس نے بیان کردی ہیں۔مسلمانوں کا خیال ہے کہ خدا تعالیٰ کی ننانوے صفات ہیں جو انسانوں سے تعلق رکھتی ہیں مگر انہوں نے ایک حدیث سے دھوکاکھایا ہے جس کا مطلب اور ہے۔درحقیقت اس دنیا میں تعلق رکھنے والی صفات بھی بہت سی ہیں جن میں سے بعض ظاہر الفاظ میں اوربعض اشارات میں کلامِ الٰہی میں