انوارالعلوم (جلد 6)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 371 of 603

انوارالعلوم (جلد 6) — Page 371

انوار العلوم جلد 4 هستی باری تعالیٰ صفات الہیہ کی اقسام اب میں یہ بتاتا ہوں کہ صفات اللہ چارشم کی ہیں۔ اول وہ جن میں خدا کی قدرتوں کا ذکر ہے اور یہ چار قسم کی ہیں اول وہ جو بدء سے تعلق رکھتی ہیں یعنی ان میں خدا اور مخلوق کے تعلق کی ابتداء کا اظہار کیا ہے یعنی اس کی پیدائش اس کا وجود میں لانا وغیرہ ابتدائی جیسے مادہ کو پیدا کیا ۔ دوسری جو ایصال خیر سے تعلق رکھتی ہیں جیسے رحیم - رحمن وغیرہ تعمیری جو دفع شر سے تعلق رکھتی ہیں جیسے حفیظ ہیمن وغیرہ ۔ چوتھی وہ جو نافرمانی پر سزا دینے کے متعلق ہیں۔ ۔ دوسری قسم کی صفات وہ ہیں جن سے خدا تعالیٰ اپنا منزه عن العيوب ہونا بیان کرتا ہے جیسے یہ کہ وہ نہ کسی کا بیٹا ہے نہ باپ نہ کھاتا ہے، نہ پیتا ہے، نہ سوتا ہے۔ ان صفات میں زیادہ تر ان خیالات کا دفع مد نظر ہوتا ہے جو لوگوں میں خدا تعالیٰ کے متعلق رائج ہوتے ہیں اور غلط ہوتے ہیں یا جن کو انسان اپنے پر قیاس کرکے خدا تعالیٰ کی طرف منسوب کر سکتا ہے ۔ جیسے تیسری قسم کی صفات وہ ہیں جن میں خدا تعالیٰ اپنے ذاتی حسن کو بیان کرتا ہے ۔ سم چوتھی قسم کی صفات وہ ہیں جن میں خدا تعالیٰ اپنے وراء الوری ہونے کو بیان کرتا ہے۔ صفت احد ہے کہ وہ اس کے کامل طور پر ایک ہونے پر دلالت کرتی ہے کسی دوسرے وجود کے خیال کو بھی قریب پھٹکنے نہیں دیتی ۔ و کیا خدا کی صفات انسانی صفات میں ہیں ا ا ا ا ا ا ا ا ا ا ا الالات روانی اس جگہ ایک اور پیدا ہے کہ خدا کی جو کی گئی ہیں ان میں سے بہت سی ہیں جو انسان میں بھی پائی جاتی ہیں۔ جیسے مثلاً کہتے ہیں کہ خدا محبت کرتا ہے اسی طرح بندہ بھی محبت کرتا ہے تو کیا اس کی محبت ہماری محبت جیسی ہی ہوتی ہے یا جب کہتے ہیں کہ وہ سنتا ہے تو کیا ہماری طرح ہی سنتا ہے یا جب کہتے ہیں کہ وہ بولتا ہے تو کیا ہماری طرح بولتا ہے ؟ اس کے متعلق یاد رکھنا چاہئے کہ جو صفتیں ہم خدا تعالیٰ کی طرف منسوب کرتے ہیں ۔ ان کا یہ مطلب نہیں کہ وہ صفات میسی ہم میں پائی جاتی ہیں ویسی ہی خدا میں بھی ہیں بلکہ ان کے ذریعہ سے وہ صفا بیتی ہم میں دل میں بھی ہیں بلکہ انکے صرف اس قدر سمجھانا مقصود ہوتا ہے کہ جس طرح مثلاً آنکھوں یا کانوں کے ذریعہ سے ہمیں آواز یا ہے مشکی یا سے صورت و شکل یا حرکت کا علم ہو جایا کرتا ہے اسی طرح خدا تعالیٰ کو بھی آواز و صورت و شکل یا حرکت کا علم ہوتا ہے ۔ یا یہ کہ جس طرح انسان اپنے ارادہ کو زبان سے ظاہر کر سکتا ہے خدا تعالیٰ بھی اپنا ارادہ