انوارالعلوم (جلد 6)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 369 of 603

انوارالعلوم (جلد 6) — Page 369

انوار العلوم جلد 4 ۳۶۹ هستی باری تعالی پائی جاتی ہیں اور وہ غالب ہے اور حکمت والا ہے ۔ یہ وہ نام ہیں جن کے ذریعہ سے خدا تعالیٰ بندوں سے تعلق رکھتا ہے یا جن کے ذریعہ تمہارے لئے اپنے قرب کا سامان پیدا کرتا ہے یا جن کے ذریعہ بندہ کو اپنے سے جدا ثابت کرتا ہے ۔ نام عربی میں صفت کے لئے بھی آتا ہے اور خدا تعالیٰ کے جو نام قرآن اور احادیث میں آئے ہیں ان سے مراد صفات ہی ہیں اور ان میں سے موٹے موٹے نام یہ ہیں ۔ قدوس - سلام مؤمن بہیمن - عزیز - جبار - متکبر - خالق - باری - مصوّر - حکیم علیم - رزاق - سمیع و بصیر حفیظ کریم مجھی - قيوم - رؤوف - رحیم یعنی - صمد - ورود - ان ناموں کے بتانے کی غرض یہ ہے کہ بندہ ان ناموں کے ذریعہ سے معلوم کر سکے کہ وہ خدا سے کس کس طرح تعلق پیدا کر سکتا ہے ۔ ے معلوم کر کہ وہ خدا سے کس پیدا کر سکتا ہے ۔ خدا کے لئے نام تجویز کرنا اب ایک سوال پیدا ہوتا ہے اور وہ یہ کہ خدا نے کہا ہے کہ میرے اچھے نام ہیں تو کیا ہم خود بھی کوئی اچھا نام دیکھے کر خدا کی طرف منسوب کر دیا کریں ؟ ** میرے نزدیک ایسا نہیں کرنا چاہئے ۔ وجہ یہ کہ اس میں بڑی بڑی غلطیاں سرزد ہو جاتی ہیں۔ خدا تعالیٰ فرماتا ہے ۔ وَلِلَّهِ الْأَسْمَاءُ الْحُسْنَى فَادْعُوهُ بِهَا وَذَرُوا الَّذِينَ يُلْحِدُونَ فِي اسْمَائِهِ سَيُجْزَوْنَ مَا كَانُوا يَعْمَلُونَ (الاعراف : (۱۸) تمام صفات حسنہ خدا کی ہیں پس تم ان کے ساتھ اسے پکارو اور ان لوگوں کو جو خدا تعالیٰ کے ناموں کے بارہ میں اپنی طرف سے باتیں بنالیتے ہیں تم انکو چھوڑ دو۔ چونکہ انسان جب خود عقل سے صفات الہیہ پر غور کرتا ہے تو کچھ کا کچھ بنا لیتا ہے اس لئے اس طرح کرنا ٹھیک نہیں ۔ ہاں اگر کوئی شخص جوش محبت میں ایسا کر بیٹھے تو ہم اسے برا بھی نہیں کہیں گے ۔ جیسے مثنوی والے نے ایک قصہ لکھا ہے کہ ایک گڈریا کہ رہا تھا کہ اگر خدا مجھے مل جائے تو میں اس کی جوئیں نکالوں ، ا سے دُودھ پلاؤں ، اس کے پاؤں دباؤں ۔ حضرت موسی نے پائیں سے گذرتے ہوئے جب یہ سنا تو اسے ڈانٹا کہ اس طرح نہ کہو ۔ خدا تعالیٰ نے حضرت موسی کو فرمایا تم نے اس کا دل کیوں توڑا ۔ اس کا اسی قدر علم تھا یہ اپنے علم کے مطابق اظہار محبت کر رہا تھا لیکن اگر یہی خیال جو جوش محبت میں گڈریا ظاہر کر رہا تھا اس کا عقیدہ بن جاتا اور دوسرے لوگ بھی اس کو سیکھتے تو خدا تعالیٰ کے متعلق کیسا بھدا خیال دنیا میں باقی رہ جاتا۔ چنانچہ ہندوؤں میں اسی قسم کے خیالات نے بڑی ابتری پھیلائی ہوئی ہے ۔ وہ کہتے ہیں کہ جب پرمیشور سوتا ہے تو کچھی اس کے پاؤں سہلاتی ہے ۔ چونکہ ان کو دولت سے بہت محبت ہے اس لئے انہوں نے سمجھا کہ پرمیشور