انوارالعلوم (جلد 6) — Page 367
انوار العلوم جلد 4 هستی باری تعالی چیز ہے اور وسیلہ ڈھونڈنا اور شئے ہے اطاعت تو یہ ہے کہ جس رستے پر وہ چلتے ہیں ہم بھی اس راستہ پر چلیں یا متفقہ عمل کے لئے اس نظام کی پابندی کریں جسے وہ مقرر کرتے ہیں مگر وسیلہ یہ ہے کہ خدا تعالیٰ کسی شخص کو اس لئے پیدا کرے یا اس عہدہ پر مقرر کر ہے کہ اس کی اجازت کے بغیر کوئی اندر نہ آسکے یا یہ کہ اپنے بعض اختیار اسے دیدے تا وہ بھی خدا کی بعض صفات کے ذریعہ سے دنیا میں تصرف کرے نبیوں کی مثال یہ ہے کہ جیسے ایک واقف راہ ایسے شخص کو جو کسی مقام کا رستہ نہ جانتا ہو اپنے ساتھ لے جا کر راستہ دکھا رہے دنیا کا کوئی شخص نہ کہے گا کہ یہ راستہ دکھانے والا شخص درمیانی وسیلہ ہے ۔ وہ راہنما کہلا سکتا ہے رہبر کہلا سکتا ہے، استاد کہلا سکتا ہے مگر وہ درمیانی ہر گنہ نہیں ہے۔ وہ خدا تعالیٰ کی طاقتوں پر متصرف نہیں ہے۔ رسول لوگوں کو بلانے آتا ہے نہ کہ ان کے سامنے دروازہ بند کر کے کھڑے تصرف ہے رسول لوگوں ہو جانے کے لئے ۔ خلفاء کا تعلق بھی انبیاء سے یہی ہوتا ہے وہ انبیاء کی تعلیم پر لوگوں کو عمل کرانے اور نظام قائم کرنے کے لئے ہوتے ہیں نہ کہ نبیوں اور لوگوں کے درمیان روک ہوتے ہیں۔ یہ نکتہ تھا جس کو بیان کرتے ہوئے حضرت احمد سر ہندی رحمۃ اللہ علیہ کے منہ سے نکل گیا تھا کہ پنجه در پنجه خدا دارم من چه پروانے مصطفی دارم ایسے نیک انسان کے متعلق یہ نہیں کر سکتے کہ وہ رسول کریم صلی الہ علیہ سلم کی بے ادبی کریکا ان کا دوسرا کلام ہر گنہ اس امر کی تصدیق نہیں کرتا کہ وہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے ادب تھے جو کچھ انہوں نے کہا ہے اس کا یہی مطلب ہے کہ خدا تعالیٰ نے اپنے ملنے کا راستہ سب کے لئے کھلا چھوڑا ہے اس غرض کے لئے کسی وسیلے کی اسے ضرورت نہیں خواہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہی نہ ہوں اور اس میں کیا شک ہے کہ انسان کو قرب الہی کے ہی کیوں نہ ہوں اور اس میں کیا شک ہے کہ انسان کو قرب الہی کے حصول کے لئے کسی وسیلہ کی ضرورت نہیں گو نمونے اور رہنما کی اسے ضرورت ہے ۔ انسان کو پیدا کرنے کی غرض عرض بندے کو خدا تعالیٰ نے اس لئے پیداکیا ہے کہ اپنی صفا کی اس پر جلوہ گری کرے جیسے آئینہ بناتے ہیں تا کہ اس میں اپنا عکس دیکھا جائے اگر کوئی اس پر عکس نہ پڑنے دے تو اس شخص پر کسی قدر غصہ آتا ہے اسی طرح خدا اور بندہ کے درمیان اگر کچھ حائل ہو تو اسے خدا نا پسند کرتا ہے ۔ بچپن میں میں نے ایک رؤیا دیکھی تھی کہ میں ایک جگہ لیکچر دے رہا ہوں اور یہ بیان کر رہا