انوارالعلوم (جلد 6) — Page 366
انوار العلوم جلد 4 هستی باری تعالی ست چیزیں وہ موجود ہیں ۔ جہالت اس لئے کہ جن چیزوں کو خدا تعالیٰ نے انسان کے فائدہ کے لئے اور خدمت کے لئے بھیجا ہے انہیں وہ اپنا افسر اور حاکم سمجھ کر ان سے فائدہ اُٹھانے سے محروم ہو جاتا ہے اور ایسے ذرائع سے ان سے نفع حاصل کرنا چاہتا ہے جس طریق سے وہ نفع حاصل نہیں کر سکتا اور بزدلی اس لئے کہ جن وجودوں سے اسے ڈرنے کی کوئی وجہ نہیں جن سے اسے کوئی نقصان نہیں پہنچ سکتا وہ ان سے کانپتا اور لرزتا ہے ۔ حق یہ ہے کہ شرک انسان کا نقطہ نگاہ بہت ہی محدود کر دیتا ہے اور اس کی ہمت کو گرا دیتا ہے اور اس کے مقصد کو ادنی کر دیتا ہے۔ مشرک انسان یہ خیال کرتا ہے کہ وہ براہ راست خدا تعالی تک نہیں پہنچ سکتا اور اسے کسی واسطہ کی ضرورت ہے حالانکہ اللہ تعالیٰ نے اپنے اور انسان کے درمیان کوئی واسطہ نہیں رکھا وہ سب انسانوں سے یکساں محبت کرتا ہے ۔ ہاں اگر ان کے اعمال میں فرق ہو تو بیشک وہ اعمال کے لحاظ سے تعلق میں بیشک فرق کرتا ہے لیکن بلحاظ بندہ ہونے کے کافر اور مومن سے اس کا یکساں سلوک ہے اور سب کے لئے اس کے دروازے کھلے ہیں جو چاہے اس کے قرب کی تلاش کرے ۔ وہ نہیں چاہتا کہ انسان اور اس کے درمیان کوئی واسطہ بن کر کھڑا ہو خواہ وہ نبی ہی کیوں نہ ہو ۔ بلکہ یہ چاہتا ہے کہ انسان خود اس کے سامنے آئے اب دیکھو کہ کوئی بادشاہ اپنی رعایا سے چاہیے کہ وہ خود انس سے بات کریں مگر وہ دوسروں سے جا کر کہیں کہ تم ہمارا کام کر دو ہم بادشاہ کے پاس نہیں جاتے تو کیا وہ پسند کرے گا ؟ یہ خیال غلط ہے کہ بادشاہ سب سے تعلق نہیں رکھ سکتے آخران کے نائب مقرر ہوتے ہیں کیونکہ بادشاہ انسان ہوتا ہے اور اس کی طاقتیں محدود ہوتی ہیں مگر خدا تعالیٰ کی طاقتیں محدود نہیں ہیں۔ بادشاہ کے لئے سب سے تعلق رکھنا ممکن نہیں مگر خدا تعالیٰ کی طاقت اور قدرت میں ہے کہ وہ سب سے براہ راست تعلق رکھے اور وہ پسند نہیں کرتا کہ اس کے اور بندے کے درمیان کوئی حجاب بنے کیونکہ اس نے انسان کو پیدا ہی اس لئے کیا ہے کہ وہ اس کا قرب حاصل کرے ۔ دیکھو توحید پر ایمان لاکر انسان کی نظر کس قدر وسیع ہو جاتی ہے اس کا ایک ہی مقصد ہوتا ہے کہ اس کا تعلق براہ راست خدا تعالیٰ سے ہو اسے خدا تعالیٰ سے ملنے کے لئے کسی شفیع کی کا ہے ضرورت نہیں نہ کسی نبی کی نہ کسی ولی کی ۔ عت نبیوں کی اطاعت کی وجہ اسی اس موقع پر کہا جا سکتا ہے کہ اگر یہ بات ہے تو نبیوں کی اطلا کی کی و یا یا ان کا ایک جوان ایران کیوں کی جاتی ہے؟ اس کا جواب یہ ہے کہ اطاعت اور