انوارالعلوم (جلد 6) — Page 357
اوّل یہ خیال کرنا ایک سے زیادہ ہستیاں ہیں جو یکساں طاقتیں رکھتیں ہیں اور سب کی سب دنیا کی حاکم اور سردار ہیں یہ شرک فی الذات ہے۔دوسرے یہ خیال کرنا کہ دنیا کی مدبر ہستیاں ایک سے زیادہ ہیں جن میں کمالات تقسیم ہیں۔کسی میں کوئی کمال ہے اور کسی میں کوئی۔یہ شرک ہے اور یہ بھی درحقیقت شرک فی الذات ہی ہے۔تیسرے وہ اعمال جو مختلف قوموں میں عاجزی اور انکساری کے لئے اختیار کئے گئے ہیں ان میں سے جو حد درجہ کے انتہائی عاجزی کےاعمال ہیں ان کو خدا کے سوا کسی اور کے لئے کرنا شرک ہے مثلاً سجدہ ہے انتہائی تذلل اورآدب کا ذریعہ یہی ہے کہ سجدہ کیا جائے۔اس سے بڑھ کر اور کوئی طریق نہیں کیونکہ اس میں انساناپنے آپ کو گویا خاک میں ملا دیتا ہے اس سے بڑھ کر تذلل کا ذریعہ انسانی عقل تجویز ہی نہیں کرسکتی۔پس یہ عمل صرف خدا کے لئے ہی کرنا چاہئے اور کسی کے لئے نہیں کرنا چاہئے تا خدا تعالیٰ میں اور دوسرے وجودوں میں امتیاز قائم رہے۔اس خصوصیّت کی نسبت یہ خیال کرلینا چاہئے کہ جس قدر اعمال انکسار اور تذلل کے تھے خدا تعالیٰ نے ان کے متعلق کہا کہ ان میں سے ایک میرے لئے رکھ دو اور باقی بیشک اوروں کے لئے استعمال کرو۔یہ نہیں ہوسکتا کہ وہی میرے لئے اور وہی دوسروں کے لئے کیونکہ یہ میری شان کے خلاف ہے اس لئے میرے لئے ایک عمل کو علیحدہ کردو اگر وہ عمل اوروں کے لئے کروگے تو اس کا یہ مطلب لیا جائے گا کہ تم ان کو بھی میرے برابر قرار دیتے ہو۔سجدہ کے علاوہ مختلف اقوام میں مختلف حرکات بدن انتہائی تذلل کے لئے سمجھی گئی ہیں جیسے ہاتھ باندھ کر کھڑا ہونا ،رکوع ،دوزانو ہوکر بیٹھنا۔ان سب کو خدا تعالیٰ نےاپنے لئے مخصوص کرلیا ہے اور عبادت الٰہی کا حصہ بنا دیا ہے۔پس یہ عمل اب اور کسی کے لئے کرنے جائز نہیں ہیں اور شرک میں داخل ہیں۔شرک کی چوتھی قسم چوتھی قسم شرک کی یہ ہے کہ اسباب ظاہری کے متعلق یہ سمجھے کہ ان سے میری سب ضروریات پوری ہوجائیں گی۔اوراللہ تعالیٰ کے تصرّف کا خیال دل سے مٹا دے اور یہ خیال کرے کہ صرف مادی اسباب ہی ضرورت کو پورا کرنے والے ہیں مثلاً اگر کوئی سمجھے کہ روٹی کھانے سے ضرور پیٹ بھرجائے گا اور خدا تعالیٰ کی قضاء کا اب اس معاملہ میں کوئی دخل نہیں ہے تو یہ شرک ہوگا یہ جو کپڑا پہنے اس کے متعلق سمجھے کہ یہ ضرور سردی سے بچائےگا تو یہ بھی شرک ہوگا۔یا کوئی سامان مہیّا کرے اور سمجھے کہ اس کےذریعہ ضرور میرا کام ہوجائے گا