انوارالعلوم (جلد 6) — Page 331
انوار العلوم جلد 4 ٣٣١ ہستی باری تعالیٰ زار ہوا اور کسی طرح حضرت میں موعود کی یہ پیشگوئی کہ زار بھی ہوگا تو ہو گا اس گھڑی با حال زار ہیبت ناک طور سے پوری ہوئی ۔ اس صفت کے متعلق ایک چھوٹا سا تجربہ اپنا بھی سنا دیتا ہوں ۔ ہماری جماعت کے ایک ڈاکٹر ہیں ان کے متعلق خبر آئی کہ وہ بصرہ کی طرف مارے گئے ہیں ۔ اس خبر کے آنے کے چند روز ہی پہلے ان کے والد اور والدہ قادیان بغرض علاقات آئے تھے ۔ میں نے ان کو دیکھا کہ وہ بہت ہی ضعیف تھے جس وقت میں نے یہ خبر سنی میری آنکھوں کے سامنے ان کے ضعف کا نقشہ کھنچ گیا اور ساتھ ہی یہ خیال گذرا کہ ڈاکٹر صاحب ان کے اکلوتے بیٹے ہیں اگو بعد میں معلوم ہوا کہ ان کے اور بھی بیٹے تھے، اور میرے دل کو اس غم کا خیال کر کے جو ان کو پہنچا ہو گا سخت تکلیف ہوئی اور بار بار میرے دل میں یہ خیال پیدا ہونے لگا کہ کاش وہ نہ مرے ہوں ۔ گو بظاہر یہ خیال بیوقوفی کا ہو مگر میں سمجھتا ہوں الہی تحریک کے ماتحت اور دعا کرانے کی غرض سے تھا۔ خیر جب میں رات کو سویا تو میں نے خواب میں دیکھا کہ تین دن ہوئے ہیں کہ وہ زندہ ہو گئے ہیں۔ میں نے دوسرے میں کر تین ہیں وہ ہو دن کھانے کے وقت اپنے بعض عزیزوں کو یہ خواب سنائی میرے چھوٹے بھائی نے کہ جن کی ڈاکٹر صاحب کے ایک رشتہ کے بھائی سے دوستی تھی اور جو قادیان میں رہتے ہیں ۔ اس خواب کا ذکر کر دیا۔ انہوں نے اپنے گھر اطلاع کر دی اس کے جواب میں ان کو خط ملا کہ ان کی خواب پوری ہو گئی ہے۔ عراق سے اطلاع آ گئی ہے کہ ان کی موت کے متعلق غلطی لگی تھی ان کو بد و یپڑ کر لے گئے تھے اور غلطی سے یہ خیال کر لیا گیا کہ وہ مارے گئے ہیں لیکن بعد میں ایک موقع ملنے پر وہ بھاگ کر خیریت سے واپس آگئے ہیں۔ اسی قسم کا ایک اور ذاتی تجربہ میں بیان کرتا ہوں ۔ گذشتہ سال کے سفر کشمیر میں میں نے دیکھا کہ ایروپلین AEROPLANE کے ذریعہ میرے پاس ایک خطہ آیا ہے میں نے یہ خواب دوستوں کو سنائی اور پھر خود بھول گیا ۔ چند ہی دن بعد ایک خط آیا جس پر لکھا تھا BY AIRFORCE اور اسے دیکھ کر میاں عبدالسلام صاحب حضرت خلیفہ اول کے صاحبزادے نے وہ رو با یاد دلائی۔ و یہ تو خدا تعالیٰ کے عالم الغیب ہونے کی مثالیں ہیں۔ اس کے سوا اقتداری علم بھی جنتی باری کے دلائل میں سے ایک دلیل ہے۔ اقتداری علم کی بڑی مثال خود قرآن کریم ہے ۔ اس کے متعلق دعویٰ ہے کہ کوئی ایسا کلام بنا کر نہیں لا سکتا بلکہ اس جیسی تین آیات بھی بنا کر پیش نہیں کر سکتا۔ قرآن کریم انہیں الفاظ میں ہے جن کو سب استعمال کرتے ہیں اور عربی بولنے والے لوگوں میں اسلام کے دشمن تذکره صفحه ۵۴۰ ایڈیشن چهارم