انوارالعلوم (جلد 6) — Page 319
انوار العلوم جلد 4 ۳۱۹ استی باری تعالی الفاظ رکھے گئے ہیں جن کے متعدد معنی ہو سکتے ہیں اور بعض ان میں سے بظاہر مخالف نظر آتے ہیں مگر وہ حقیقتاً مخالف نہیں یعنی گو یہ مک نہیں کہ ایک پر حل کیا جائے تو دوسرے پر بھی عمل ہو سکے لیکن وہ دونوں معنی شریعت کی نص صریح کے مخالف نہ ہوں گے اور دونوں میں سے کسی پر عمل کرنا ایمان یا اسلام کے لئے نقصان دہ نہ ہو گا جیسے عورتوں کی عدت کے لئے قرآن کریم میں قرء کا لفظ استعمال ہوا ہے جس کے معنی ظہر کے بھی ہیں اور حیض کے بھی مسلمانوں میں سے ایک جماعت طہر کے معنی کرتی ہے دوسری حیض کے گو بظاہر یہ دونوں معنی مخالف نظر آتے ہیں اور ایک ہی شخص ایک وقت میں دونوں پر عمل نہیں کر سکتا۔ مگر شریعیت کی کسی نص کے دونوں ہی مخالف شخص نہیں اور نہ ان میں سے کسی ایک پر عمل کرنے سے ایمان و اسلام کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔ اس اختلاف کے ذریعہ سے شریعت کی باریکیوں پر غور کرنے کی عادت پڑتی ہے مختلف علوم جسمانی و روحانی کی جستجو کا خیال دل میں پیدا ہوتا ہے اور سب سے زیادہ یہ کہ شریعیت کے مغز اور اس کے احکام کی حقیقت معلوم ہوتی ہے۔ اور اس کے احکام میں سے جو قشر اور چھلکے کی حقیقت رکھتے ہیں انکی معرفت حاصل ہوتی ہے ۔ جس طرح خدا تعالیٰ نے کانہیں رکھی ہیں کہ جو کوشش کرے ان سے سونا چاندی نکال لے اسی طرح اس نے قرآن کو بنایا ہے اور یہ امر ایک خوبی اور خدائی کلام کی اعلیٰ صفت ہے نہ کہ کوئی نقص ہیں نے دیکھا اور تجربہ سے معلوم کیا ہے کہ سورۃ فاتحہ جو ایک چھوٹی سی صورت ہے اس کے معنی کبھی ختم نہیں ہوتے۔ پس اس سے خدا کے کلام پر اعتراض نہیں پڑتا بلکہ اس کی خوبی ظاہر ہوتی ہے ۔ ہر شخص اپنی عقل اور اپنی ہمت کے مطابق معنی نکالتا ہے اور اس سے فائدہ اٹھاتا اور دوسروں کو فائدہ پہنچاتا ہے پس جو اختلاف کہ ذاتی فوائد و اغراض کے ماتحت ت نہیں کئے جاتے یا جہالت یا قلت تدبر کی وجہ سے نہیں ہوتے وہ اصول میں سے نہیں بلکہ فروعات میں سے ہوتے ہیں اور امت کے لئے فائدہ کا باعث ہیں کیونکہ ان پر لوگوں کو غور و فکر کرنے کا موقع ملتا ہے ۔ پھر قرآن کریم کی آیات کے ذومعانی ہونے کی یہ بھی وجہ ہے کہ یہی کتاب ادنی درجہ کے مومنوں کے لئے بھی ہے اور اعلیٰ درجہ کے مومنوں کے لئے بھی معمولی لیاقت کے لوگوں کے لئے بھی اور اعلیٰ روحانی مقامات پر پہنچنے والوں کے لئے بھی ۔ پس الفاظ ایسے رکھے گئے ہیں کہ ہر علم کا آدمی اس سے اپنے درجہ کے مطابق مستفیض ہو سکے اور اس کا کوئی حصہ بھی کسی جماعت کے لئے بے فائدہ یا نا قابل فہم نہ ہو یہی چھوٹی سی کتاب ہے جسے ایک معمولی سے معمولی مومن بھی پڑھتا تھا اور رسول کریم بھی۔ اگر یہ خوبی نہ ہوتی تو یا اس معمولی مؤمن کی سمجھ کے قابل بات اس میں نہ ہوتی یا