انوارالعلوم (جلد 6)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 318 of 603

انوارالعلوم (جلد 6) — Page 318

کو ہلاک نہیں کرتا جھوٹے مذاہب کے ماننے والوں کو مار دینا چاہئے تھا یا ان سب کو ایک مذہب کا پیرو بنا دینا چاہئے تھا۔اس کا جواب خدا تعالیٰ نے آپ دیا ہے فرماتا ہے۔وَلَوْ شَاءَ اللہُ لَجَعَلَكُمْ اُمَّۃً وَّاحِدَۃً وَّلٰكِنْ لِّيَبْلُوَكُمْ فِيْ مَآ اٰتٰىكُمْ فَاسْتَبِقُوا الْخَيْرٰتِ۔(المائدہ۴۹) اگر ہم چاہتے تو سب کومجبور کرکے ایک مذہب پر لے آتے۔لیکن اگر اس طرح کرتے تو کسی کو ثواب نہ ملتا اور جو غرض لوگوں کےپیدا کرنے کی تھی وہ پوری نہ ہوتی۔جس غرض کے لئے انسان کو پیدا کیا گیا ہے وہ تبھی پوری ہوسکتی ہے کہ وہ آزاد ہو۔اس میں قبول کرنےکی اور رد کرنےکی دونوں قسم کی طاقتیں ہوں پس چونکہ سب لوگوں کو مجبور کرکےایک مذہب پر لانا انسان کی پیدائش کی غرض کو بالکل باطل کردیتا ہے اسلئے خدا ایسا نہیں کرتا۔سچّے مذہب میں اختلاف یہ بھی کہا جاسکتا ہے کہ اچھا مان لیا کہ اختلاف مذاہب کی یہ وجہ ہے مگر جو مذہب اپنے آپ کو سچّا کہتا ہے اس میں بھی تو اختلاف ہے مسلمانوں کو دیکھ لو کوئی کچھ کہتا ہے اور کوئی کچھ۔اگر تم کہو کہ جس طرح پہلے دینوں میں لوگوں نے باتیں ملا دیں اسی طرح اس میں بھی ملا دی ہیں جس سے اختلاف ہوگیا ہے تو ہم کہتے ہیں خدا نے ایسا کلام کیوں نہ نازل کیا جس سے بندوں کو ٹھوکر نہ لگتی۔خدا ایسا کلام کرتا کہ کوئی انسان اس کے متعلق ٹھوکر نہ کھاتا۔اس کا جواب یہ ہے کہ خدا کا کلام تو ایسا ہی ہوتا ہے۔جسے سارے انسان سمجھ سکتے ہیں لیکن بعض لوگ شرارت سے اوردھوکا دینے کےلئے اس سے کچھ کا کچھ مطلب نکلانتے ہیں اور اس سے ان کی کوئی غرض وابستہ ہوتی ہے۔جیسا کہ اب آریہ کہتے ہیں کہ قرآن سے تناسخ ثابت ہوتا ہے روح و مادہ کی ازلیت ثابت ہوتی ہے اور ممکن ہے کچھ عرصہ کے بعد یہ بھی کہہ دیں کہ نعوذ باللہ قرآن میں نیوگ کی تعلیم بھی پائی جاتی ہےضدی اورہٹ دھرم لوگ کو کون روک سکتا ہے جو چاہتے ہیں کہتے جاتےہیں۔پھر اختلاف کا دروازہ کُھلا رکھنے سے ایک مقصد انسانی دماغ کی نشو ونما بھی ہے۔چنانچہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے اِخْتِلَافُ اُمَّتِیْ رَحْمَۃٌ میری اُمّت کا اختلاف رحمت ہے آپؐکے اس قول کی وجہ یہ ہے کہ خدا تعالیٰ نے اپنے کلام میں کچھ باتیں محکمات کی قسم سے بیان کی ہیں اور کچھ متشابہتات کی قسم سے۔محکمات سے مراد یہ ہےکہ ان کے معنی گو ایک سے زیادہ کئے جائیں مگر وہ سب کے سب ایک رنگ میں رنگین ہوں اور متشابہات کا یہ مطلب ہے کہ ایسے *کنزالعمال جلد ۱۰ حدیث نمبر ۲۸۶۸۶ص ۱۳۶