انوارالعلوم (جلد 6) — Page 314
گردن ڈال دیتے ہیں۔تو فرماتا ہےجائو مَیں نے تم سب کو معاف کردیا۔کوئی یہ کہہ سکتا ہے کہ اتفاقاً بعض کمزور لوگوں کو طاقت مل جاتی ہےمگر رسول کریمؐکے مواملہ میں فتح اور گلبہ اتفاقاً نہیں کہلا سکتا کیونکہ آپ نے اپنی کمزوری کی حالت میں پیشگوئی کردی تھی کہ مجھے غلبہ ملے گا اور پھر اس دعویٰ کے ایک زبردست طاقت پر آپ کو یقین تھا اور کامل یقین تھا کہ میرے غلبہ کو کوئی شکست سے بدل نہیں سکتا تبھی تو آپ نے ایسے خطرناک دشمنوں کو بلا شرط معاف کردیا اس قسم کے غلبہ کی مثال دنیا میں اور کہاں ملتی ہے؟ موجودہ زمانہ میں خدا کی صفت عزیز کا ثبوت پھر اسی زمانہ میں دیکھو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو خدا تعالیٰ کے کھڑا کیا۔جن کے متعلق مولوی محمد حسین بٹالوی نے جو اس وقت ہندوستان میں سے بار رسوخ عالم تھے کہا کہ مَیں نے ہی اس کو بڑھایا ہے اور مَیں ہی اسے تباہ کروں گا۔مگر دیکھو کون مٹ گیا اورکون بڑھا مولوی محمد حسین صاحب کا اب کوئی نام بھی نہیں لیتا حالانکہ یہی مولوی محمد حسین صاحب جب مسیح موعود علیہ السلام کی مخالفت سے قبل کہیں جاتے تھےتو لوگ سڑکوں پر جمع ہوجاتے تھے اور کھڑے ہو ہوکر تعظیم کرتے تھے۔غرض انہوں نے مخالفت کی اور سب کو مخالفت کے لئے بھڑکایا شروع شروع میں گورنمنٹ بھی ناراض تھی کیونکہ آپ نے مہدی ہونے کا دعویٰ کیا تھا اور مہدی کے متعلق مسلمانوں نے جو غلط خیال بنائے ہوئے تھے ان کی وجہ سے گورنمنٹ آپ پر بہت بد ظن تھی۔غرض ہر طرف سے آپ کی مخالفت ہوتی تھی مولویوں نے اپنی طرف سے زور لگانے میں کسر نہ رکھی اور عوام نے اپنی طرف سے کمی نہ کی۔مگر خدا تعالیٰ نے یہ کہہ رکھا تھا کہ لَاَغْلِبَنَّ اَنَا وَرُسُلِی ْمیں اور میرا ضرور غالب ہوکر رہیں گے پھر اس کلام کے ماتحت دیکھو لوگوں کی مخالفت کا کیا نتیجہ نکلا؟ یہی ناں کہ بہت سے ایسے لوگ جو شروع میں آپؑکو گالیاں دیتے تھے آج لَاَغْلِبَنَّ اَنَا وَرُسُلِیْ کی رسی میں بندھے ہوئے یہاں بیٹھے ہیں لوگوں نے حضرت مسیح موعود کو کیا کیا دُکھ نہ دئیے۔کیا کیا تکلیفیں نہ پہونچائیں آپ کے راستہ میں کیا کیا رکاوٹیں نہ ڈالیں مگر کیا کرلیا؟ وہ جو غالب سمجھے جاتے تھے آخر مغلوب ہوگئے اور وہ جو بڑے سمجھے جاتےتھے چھوٹے ہوگئے اور اس طرح لَاَغْلِبَنَّ اَنَا وَرُسُلِیْ کی پیشگوئی پوری ہوئی۔