انوارالعلوم (جلد 6) — Page 313
نبی نہیں بناتا الَّا ماشاء اللہ بلکہ انہیں لوگوں میں سے نبی بناتا ہےجو ضعیف اور کمزور ہوتےہیں جن کے پاس نہ کوئی فوج ہوتی ہےنہ ہتھیار نہ دولت ہوتی ہے نہ جتھا۔ان کو بھیج کر ان کےذریعہ دنیا کو مفتوح کراتا ہے اور اسطرح دکھا دیتا ہے کہ لَاَغْلِبَنَّ اَنَا وَرُسُلِیْ بالکل درست اور صحیح ہے جن حالات میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے عرب کو فتح کیا ہے ان کے سامنے رکھ کرکون کہہ سکتا ہے کہ خدا کی مدد کے سوا آپ کو یونہی غلبہ حاصل ہوسکتا تھا آپ کے پاس نہ مال تھا نہ دولت علم آپ نہ پڑھے ہوئےتھے۔مال کی یہ حالت تھی کہ ایک ایسی مالدار عورت سے آپ نےشادی کی جو نیک تھی اس نے اپنا مال آپ کو دیدیا اور آپ نے وہ بھی خدا کی راہ میں صرف کردیا۔ایسے انسان کو خدا نے رسول بنا دیا اور رسول کے لئے یہ شرط رکھدی کہ لَاَغْلِبَنَّ اَنَا وَرُسُلِیْ کہ رسول ضرور غالب ہوگا۔اگر خدا ہے تو ایسا ہی ہونا ضروری ہے۔اب دیکھو دُنیا نے رسول کریمؐ کے ساتھ ضرورضرور غالب ہوگا۔اگرخدا ہے تو ایسا ہی ہونا ضروری ہے۔اب دیکھودُنیا نے رسول کریمؐ کے ساتھ کیا کیا آپ کے خلاف سارے لوگوں نے زور مارے مگر کیا نتیجہ نکلا ان کی تمام کوششوں کا نتیجہ یہی نکلا کہ آپ نہایت شان کے ساتھ دس ہزازر قدوسیوں سمیت مکہ میں پہنچے اور وہی سردار جو آپ پر اتنا ظلم کرتے تھے کہ جب آپ نماز کے لئے خانہ کعبہ میں جاتے تو آپ کو ڈانٹتے آپ پر میلا ڈالتے اس وقت یہ سب آپ کے رحم پر تھے۔ایک دفعہ آپ پر اتنا ظلم کیا گیا۔کہ طائف والوں نے پتھر مار مار کر آپ کا جسم لہو لہان کردیا پھر آپ کے مریدوں کی یہ حالت تھی کہ ان کا بازاروں میں چلنا مشکل تھا۔پس اس بے سروسامانی میں آپ نے خدا تعالیٰ کی طرف سے آنے کا دعویٰ کیا اور اعلان کردیا کہ مَیں کامیاب ہوکر رہوں گا اور دُنیا پر غلبہ پاؤنگا خدا تعالیٰ میری مدد کرے گا اور مجھے فتح دے گا۔اگر قوم اس دعویٰ کو آسانی سے قبول کرلیتی تو کہا جاتا کہ جب قوم نے قبول کرلیا تو غلبہ میں کسی غیر معمولی اعانت کا ہاتھ کیوں سمجھا جائےمگر آپ کے ساتھ قوم نے محبت کا سلوک نہیں کیا قبولیّت کے ہاتھ آپ کی طرف نہیں بڑھائے۔اطاعت کی گردن آپ کے آگے نہیں جھکائی۔بلکہ ساری کی ساری قوم آپ کے خلاف کھڑی ہوگئی اور معمولی مخالفت نہیں کہ بلکہ مخالفت میں قوم نے ساراہی زور خرچ کردیاقتل کرنےکی کوشش کیساتھیوں میں سے کئی کو شہید کردیا حتّٰی کہ صحابہؓ کو ملک سے نکلنا پڑا اور آخر میں خود آپ کو بھی ملک چھوڑنا پڑا لیکن وہی شخص جسے چند سال پہلے سرف ایک ساتھ کے ساتھ رات کے اندھیرے میں اپنے عزیز وطن کو چھوڑنا پڑا تھا چند سال بعد فاتحانہ حیثیت میں واپس آتا ہے اور آکر ان ظالموں سے جنہوں نے انتہائی درجہ کےظلم اس سے اور اس کے ساتھیوں سے کئے تھے پوچھتا ہے کہ بتاؤ تو مَیں تم سے کیا سلوک کروں؟ اورجب وہ شرمندگی سے اس کے سامنے