انوارالعلوم (جلد 6)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 312 of 603

انوارالعلوم (جلد 6) — Page 312

کو پورا کرتی ہے دکھوں اور تکلیفوںکے وقت ہماری حفاظت کرتی ہے۔عام قانون کےذریعہ بھی اور خاص اسباب پیدا کرکے بھی تو یہ ماننا پڑگے گا کہ خدا ہے۔مخالفین تو ہم سےخدا کی ہستی کی ایک دلیل پوچھتے ہیں ہم کہتے ہیں کہ اگر اس کی صفات کی جلوہ گری پر غور کرکے دیکھو تو اس کی ہستی کے لاکھوں ہزاروں ثبوت موجود ہیں۔صفاتِ الٰہی دہریہ کہتے ہیں کہ جس طرح خدا موہوم ہے اس کی صفات بھی ہوہوم ہیں تمہارے پاس کیا ثبوت ہے کہکوئی علیم ہستی موجود ہے؟ کیاثبوت ہے کہ کوئی سمیع ہستی موجود ہے؟ کیاثبوت ہے کہ وہ ہستی لوگوں سے کلام کرتی ہے؟ کیا ثبو ت ہے کہ وہ قدیر ہے؟ اس اعتراض کے جواب میں دو قسم کے امور پیش کئے جاسکتے ہیں۔ایک تو وہ جو ساری دنیا کو نظر ہے اس کااثر وہی انسان محسوس کرسکتا ہےجس پر اس کاظہور ہو اور بخشنے کی حالت کو وہ خود ہی محسوس کرے گا۔مثلاً تم کوئی گناہ کرتے ہو خدا چونکہ ستارہے اس کے نتیجہ اور سزا سے تمہیں بچا لیتا ہے اور اس کے لئےایسےسامان پیدا کردیتا ہےکہ جنہیں انسانی عقل نہیں پیدا کرسکتی۔اس لئے معلوم ہوا کہ خدا ہے۔ایسے امور انسان کےنفس کے اندر ہی پیدا ہوسکتے ہیں اوران کو وہی سمجھ سکتا ہے ہاں دوسری قسم کے امور کو سب لوگ مشاہدہ کرسکتے ہیں اور میں انہیں کو لیتا ہوں۔کیونکہ جو بات اپنے ہی ساتھ تعلق رکھتی ہے اس کے متعلق ذکر مفید نہیں ہوسکتا۔اسے تو وہی سمجھ سکتا ہے جس سے وہ تعلق رکھے۔خدا کی صفت عزیز کا ثبوت میں اللہ تعالیٰ کی بعض صفات کو بطور مثال اس وقت پیش کرتا ہوں جن سے معلوم ہوگا کہ اس دنیا کے اوپر ایک ہستی ہے جس کے ارادہ کے ماتحت سب دنیا کا کا رخانہ چل رہا ہے اور سب سے پہلے اللہ تعالیٰ کی صفت عزیز کو لیتا ہوں اگر یہ صفت اپنا کام کرتی ہوئی ثابت ہوجائے تو معلوم ہوجائے گا کہ خدا ہے عزیز کے معنی غالب کے ہیں اور اس صفت کے متعلق اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں فرماتا ہے کَتَبَ اللہُ لَاَغْلِبَنَّ اَنَا وَرُسُلِیْ اِنَّ اللہَ قَوِیٌّ عَزِیْزٌ(المجادلۃ: ۲۲)مَیں نے یہ مقرر کردیا ہے کہ میں اور میرے رسول ہمیشہ غالب ہوں گے۔ادھر تو اللہ تعالیٰ یہ اعلان کرتا ہے کہ میرےدین کی تائید کے لئے جو لوگ کھڑے کئے جائیں گے وہ ہمیشہ غالب رہیں گے اور دوسری طرف اس کی یہ سنت ہے کہ بادشاہوں اور طاقتور لوگوں کو