انوارالعلوم (جلد 6) — Page 301
پس یہ کہنا کہ خدا کے ماننے سے کیا فائدہ ہوسکتا ہے بالکل غلط اورباطل ہے۔پانچویں دلیل۔دلیلِ انتظامی اب میں پانچویں دلیل لیتا ہوں۔پانچویں دلیل جس کو دلیل ایک ترقی یافتہ صورت ہے اور اس میں دُنیا کے وجود سے کسی خالق پر استدلال نہیں کیا جاتا بلکہ دنیا کے انتظام سے خال پر استدلال کیاجاتا ہے۔دُنیا کے وجود سے کسی خالق پر استدلال نہیں کیاجاتا بلکہ دنیا کے انتظام سے خالق پر استدلال کیاجاتا ہے۔دُنیا کا انتظام ہستی باری تعالیٰ پر ایک بہت زبردست دلیل ہے۔بیشک کوئی شخص فرض کرے کہ زمین اتفاقاًپیدا ہوگئی۔لیکن اس کائنات میں اکیلا ہی کرّہ نہیں اس کے علاوہ اوربھی کرّے ہیں اور وہ سب الگ کام نہیں کر رہے بلکہ ایک قانون کے ماتحت اور تقسیم عمل کے ماتحت کام کر رہے ہیں۔ایک چیز کے بغیر دوسری مکمل نہیں اورایک کے کام میں دوسری دخل نہیں دیتی۔یہ بھی فرض کرلو کہ انسان آپ ہی پیدا ہوگیا۔مگر اس امرکو کس طرح فرض کرلیا جائے کہ انسان کی پیدائش کے ساتھ ہی تمام عالم کو بھی اسی مناسبت پر پیدا کیا گیا ہے کہ وہ انسان کی ضروریات کو خواہ کسقدر ہی ترقی یافتہ کیوں نہ ہوں پورا کررہا ہے۔پھر جزئیات کولو۔انسان کو پیدا کیا گیا۔اس کے ساتھ ہی انسان کے ہاتھ ایسے ہیں جو لکھنے کی طاقت رکھتے ہیں۔انسان کو ایسا دماغ ملا تھا جو علم کو محفوظ کرنے کا خواہشمند تھا۔اسے ہاتھ بھی ایسے دئیے گئے جو لکھنے کیلئے بہترین آلہ ہیں۔اگر اتفاق سے انسان پیدا ہوگیا تھا تو چاہئے تھا کہ اسے دماغ تو وہ ملتا جو علم کے محفوظ رکھنے کا خواہش مند ہوتا۔مگر ہاتھ مثلاً ریچھ کے سے ہوتے۔دماغی ترقی کے بالکل مناسب حال جسمانی بناوٹ اسی طرح بدلتی گئی ہے کہ اسکا طبعی بناوٹ کی ضرورت یا عدم ضرورت کے ساتھ کچھ بھی تعلق نہیں یہ محض اتفاق کیونکر کہلا سکتا ہے؟ اسی طرح مثلاً انسان کو آنکھیں ملی ہیں تو دوسری طرف دیکھو کروڑوں میل پر سورج بھی پیدا کیا گیا ہے جس کی روشنی میں یہ آنکھوں سے کام لے۔انسان کی پیدائش کے مقصد کو پورا کرنے کیلئے اسے اگر بیماری اور شفاء کا مورد بنایا گیا ہے تو ساتھ ہی سب بیماریوں کا علاج بھی مہیا کیاگیا ہے۔آخر تمام عالم میں ایک نظام اور چھوٹی سے چھوٹی ضرورت کے پورا کرنے کا سامان جو کروڑوں اشیاء کی پیدائش اور لاکھوں حالتوں میں واقعات کے مناسب بدل جانے والے قانون کو چاہتا تھا اتفاقاً کس طرح ہوسکتا ہے۔انسانی دماغ اس کو یاد کس طرح کرسکتا ہے کہ اس قدر وسیع نظام آپ ہی آپ اور اتفاقاً ہوگیا۔یہ نظام بغیر کسی بالا رادہ ہستی اور وہ بھی بغیر کسی عالم الغیب اور قادر ہستی کےکسی صورت میں بھی نہیں ہوسکتا تھا۔قرآن کریم نے اس دلیل کو بھی پیش کیا ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔