انوارالعلوم (جلد 6) — Page 300
کہ تا معلوم ہو کہ دُنیا کیونکہ پیدا ہوئی۔حالانکہ یہ درست نہیں۔۲ - اگر یہ درست بھی ہو کہ خدا تعالیٰ کے وجود کی تلاش صرف اس وجہ سے تھی کہ تادُنیا کی پیدائش کی حقیقت معلوم ہوجائے تو پھر ہم کہتے ہیں کہ وہ سوال حل نہ ہواتو نہ سہی ایک نئی حقیقت تو دنیا کو معلوم ہوگئی اور علم کی ترقی بہر حال مفید ہوتی ہے۔اگر ایک سوال کے حل کرنے میں ہمیںایک اور حقیقت معلوم ہوجائے تو کیا ہم اس حقیقت کو اس لئے ترک کردیں گے کہ جس سوال کو ہم حل کر رہے تھے وہ حل نہیں ہوا۔۳ - جواب یہ ہے کہ ہم نے فرض کیا ہے کہ دنیا آپ ہی آپ آئی ہے۔اس میں بھی تو یہ سوال حل نہ ہوا۔اگر اب بھی نہ ہو تو کیا حرج ہے۔۴ - چوتھا جواب یہ ہے کہ انسان کو اسی علم کی ضرورت نہیں ہوتی کہ فلاں کام کس طرح ہوابلکہ اس علم کی بھی ضرورت ہوتی ہے کہ فلاں کام کس نے کیا۔پیشوں کے متعلق ہی دیکھ لو اگر ایک شخص خوبصورت چھڑی دیکھتا ہے تو وہ یہی سوال نہیں کرتا کہ یہ کس طرح بنی بلکہ اکثر اوقات وہ یہ دریافت کرتا ہے کہ یہ کس نے بنائی ہے اور کہاں بنی ہے۔اگر انسان کو ان دونوں سوالوں کا صحیح جواب مل جائے تو اوّل تو وہ بنانےوالے کی قدر کرسکے کہ دنیا کیونکربنی ہے اور یہی معلوم ہوجائے کہ کس نے بنائی ہے تو بھی یہ علم بہت مفید ہوگا۔کیونکہ اگر یہ معلوم ہوجائے کہ اس دنیا کو خدا نے پیدا کیا ہے تو اس سے کئی راستے فکر کے نئے کھل جائیں گے مثلاً۔اوّل یہ کہ اگر ہم کو معلوم ہوجائے کہ یہ دُنیا خدا نے پیدا کی ہے تو ہم دیکھیں گے کہ آیا ہم اس سے کوئی فائدہ اٹھاسکتے ہیں یا نہیں؟ دوم _- یہ کہ ہمیں جو تکالیف پہنچتی ہیں کیا اس کےذریعہ ہم ان سے بچ سکتے ہیں یا نہیں۔سوم یہ کہ اگر اس نے ہم کو پیدا کیا ہے تو کسی لئے؟ اور کسی مقصد سے ؟ تاکہ ہم اپنی پیدائش کی غرض اور مقصد کو پورا کرسکیں۔چہارم۔ممکن ہے کہ اس کے ساتھ تعلق رکھنے سے ہمیں یہ بھی پتہ لگ جائے کہ دنیا کو اس نے کس طرح پیدا کیا ہے۔کیونکہ کس چیز کے بنانے والے سے تعلق رکھنے پر جو چیز اس نے بنائی ہو اس کی حقیقت کا بھی پتہ لگ جاتا ہے۔یہ چار ایسےعظیم الشان سوال ہیں کہ ان کے حل ہونے پر ہماری حالت کچھ سے کچھ بن سکتی ہے۔