انوارالعلوم (جلد 6)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 289 of 603

انوارالعلوم (جلد 6) — Page 289

انوار العلوم جلد 4 ۲۸۹ استی باری تعالی دوسری شکل اختیار کرنا نا مکن ہے۔ کیونکہ تغیر دوسری شے سے ملنے سے ہوتا ہے اور ملنے کی طاقت اس میں ہوتی ہے جو نا عمل ہو کامل شئے چونکہ تغیر قبول نہیں کرتی وہ کسی اور چیز سے حقیقی طور پر ملک بھی نہیں سکتی۔ اس کا ملنا ایسا ہی ہو سکتا ہے جس طرح کہ کھانڈ کے ذرے آپس میں ملکہ پھر کھانڈ کی کھانڈ ہی رہتے ہیں ۔ پس اگر ایسا کوئی ذرہ فی الواقع ہے تو یہ دنیا اس سے پیدا ہی نہیں ہو سکتی کیونکہ یہ دنیا تو بے تعداد تغیرات کا مقام ہے ۔ غرض کا ئنات عالم پر غور کرنے سے صاف ثابت ہوتا ہے کہ یہاں کی ہر چیز تغیر پذیر ہے اور اپنی ہستی کے قیام کے لئے دوسروں کی منتاج اس لئے کسی ایسی ہستی کا ماننا جو ان محتاج ہستیوں کو وجود میں لانے والی ہو اور ایک قانون کے ماتحت چلانے والی ہو ضروری ہے بعض لوگ کہتے ہیں کہ ایک مخفی طاقت سے یہ سب کچھ کچھ ہوتا ہوتا ہے مگر سوال یہ ہے کہ وہ مخفی طاقت بالا رادہ ہے یا بلا ارادہ ۔ اگر بلا ارادہ ہے تو وہ خود دوسری چیزوں سے پیدا ہوتی ہے کیونکہ تمام طاقتیں دوسری چیزوں کی حرکت یا با ہمی ترکیب سے پیدا ہوتی ہیں اور اگر بالا رادہ ہے تو ہمارا دعویٰ ثابت ہے۔ ہم بھی تو ایسی ہی طاقت کو منوانا چاہتے ہیں۔ بغرض کہ اللهُ الصَّمَدُ میں خدا تعالیٰ کے وجود کی ایک نہایت عجب دلیل دی گئی ہے۔ وہ مسئلہ جو خدا کے وجود کے خلاف سب سے زیادہ پیش تمیری دلیل مسئله ارتقاء کیا جاتا ہے ارتقاء کا مسئلہ ہے یعنی یہ دنیا جو ہمیں نظر آتی ہے پہلے دن سے اسی طرح نہیں چلی آئی بلکہ پہلے باریک ذرات تھے جو لاکھوں سال بعد ایک سے دو ہوئے، دو سے تین ، پھر چار، پانچ حتی کہ اس طرح بڑھتے گئے ۔ ادھر نباتات اور حیوانات میں اسی طرح آہستہ آہستہ ترقی ہوتی گئی۔ جو بہتر نسل تھی وہ اور زیادہ بهتر پیدا کرتی گئی حتی کہ بندر بن گیا اور پھر اس سے اوپر بعض اور جانور اور پھر ان سے آدمی اور بنے ۔ ہم اس بات کو تسلیم نہیں کرتے کہ بندر سے انسان بنے مگر ہمیں قرآن کریم یہ ضرور بتاتا ہے کہ دنیا کی پیدائش تدریجی تغیر کے ساتھ ہوئی ہے۔ قرآن کریم اس تغیر کے معلق جو کچھ بتاتا ہے اس کی مثال پہاڑوں سے دی جا سکتی ہے۔ پہاڑ کو جہاں بھی دیکھو گے اس کا ایک سلسلہ نظر آئے گا۔ پہلے چھوٹا ٹیلا آتا ہے پھر اس سے اونچا پھر اس سے اونچا اور جب اونچائی انتہاء کو پہنچ جاتی ہے تو پھر چوٹیاں بیچی ہونی شروع ہو جاتی ہیں۔ یہاں تک کہ آہستہ آہستہ اونچائی بہت کم ہو جاتی ہے ۔ اس کے بعد پھر وہ اونچی ہونی شروع ہو جاتی ہیں پھر نیچی ہونے لگتی ہیں۔ حیوانات کی پیدائش میں بھی اس قسم کا ارتقاء ضرور ہوا ہے یعنی قبض اور بسط کی تدریجی روئیں دنیا میں ضرور چلی ہیں۔ یہ