انوارالعلوم (جلد 6) — Page 288
ہوں۔اب اس حقیقت کو دنیا میں دیکھو کس طرح واضح طور پر ہر جگہ اس کا ثبوت ملتا ہے۔دنیا کی کوئی چیز نہیں جو اپنی ذات میں کامل ہو ہر چیز اپنے وجود کے لئے دوسری اشیاء کی محتاج ہے اور بغیر ان کے قائم نہیں رہ سکتی۔خدا کےسوا ہر چیز دوسری کی محتاج ہے ELEMENTSکے باریک سے باریک ذرات کی طرف چلے جاؤ۔ہر ایک ذرہ کا دوسرے ذرہ پر اثر پڑ رہا ہے۔کہیں نور کا اثر ہو رہا ہے۔کہیں ایھتر کا اثر ہورہا ہے۔انسان کامل چیز سمجھی جاتی ہے لیکن یہ پانی روٹی اور ہوا کا محتاج ہے۔سورج ہےجو گیس کا محتاج ہے۔اپنے حجم کو قائم رکھنے کے لئے دوسرے سیاروں سے مواد لینے کا محتاج ہے اور بیسیوں اشیاء کا محتاج ہے۔زمین ہے تو وہ اپنے وجود کے قیام کے لئے کہیں دوسرے ستاروں کی کشش کی کہیں کرہ ہوا کی۔ایتھر کی۔نئے مادہ کی محتاج ہے۔غرض کسی بڑی سے بڑی چیز کو لیکر باریک در باریک کرتے جائو تو محتاج ثابت ہوگی۔پس جب ہر چیز جو ہمیں دُنیا میں نظر آتی ہے وہ پانے وجود کے لئے دوسری اشیاء کی محتاج ہے اور یہ احتیاج بتارہی ہےکہ دنیا کا کارخانہ اپنی ذات میں قائم نہیں بلکہ اس کا چلانے والا کوئی اور ہے کیونکہ محتاج الی الغیر چیز اپنی خالق آپ نہیں ہوسکتی نہ ہمیشہ سے ہوسکتی ہے۔کوئی کہہ سکتا ہے کہ چیزوں کی یہ احتیاج موجودہ تحقیقات کی رو سے ہے جب تحقیقات مکمل ہوجائیں گی تو شاید ثابت ہوجائے کہ بحیثیت مجموعی دُنیا کسی کی محتاج نہیں۔اول تو اس کا یہ جواب ہے کہ شاید نئی تحقیق سے دنیا کی احتیاج اوربھی واضح ہوجائے اور اس کے خالق کا وجود اور بھی زیادہ روشن ہوجائے۔پس یہ کوئی اعتراض نہیں۔اس وقت تک تحقیقات کے کئی دور بدلے ہیں مگر یہ مسئلہ زیادہ سے زیادہ قائم ہوا ہے کبھی اس کے خلاف کوئی بات ثابت نہیں ہوئی۔پس ہر جدید تحقیق کے بعد اس اصل کا اوربھی زیادہ پختہ ہوجانا ہی اس امر کا ثبوت ہےکہ آئندہ تحقیق اسے باطل نہیں کرے گی بلکہ ثابت کرے گی۔لیکن اگر فرض بھی کرلیا جائے کہ کوئی ایسا ذرہ معلوم ہوجائے جو اپنی ذات میں کامل ہو تو پھر بھی اس کے جوڑنے جاڑنے والے کی ضرورت رہے گی۔لیکن درحقیقت یہ عقلاً محال ہے کہ کوئی ذرہ اپنی ذات میں کامل ہو بغیر بالا رادہ ہستی کے اور قادر مطلق وجود کے یہ طاقت کسی میں نہیں پائی جاسکتی۔پھر یہ بھی سوال پیدا ہوتا ہے کہ وہ مادہ جسے اپنی ذات میں مکمل قرار دیا جائے اس کے لئے