انوارالعلوم (جلد 6)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 287 of 603

انوارالعلوم (جلد 6) — Page 287

جواب اس کے متعلق ہم کہتے ہیں۔اس خیال کا وہ حصہ جس کے متعلق کہا جاتا ہے کہ جتنے منہ اتنی باتیں وہ باطل ہے۔مگر جس حصہ کو سارے کے سارے مان رہے ہیں وہ کیوں باطل قرار دیا جائے۔سارے کے سارے یہ تو کہتے ہیں کہ خدا ہے سہی۔اس کےآگے جو کچھ کہتے ہیں اس کے متعلق ہم کہیں گے کہ ان کی یہ تشریحیی غلط ہیں اور خدا ہے والا خیال درست ہے۔جیسے ایک شخص کہے کہ مَیں نے دس سوار دیکھے،دوسرا کہے مَیں نے بیس دیکھے، تیسرا کہے مَیں نے پچیس دیکھے تو کیا یہ کہیں گے کہ کسی نے ایک بھی سوار نہیں دیکھا۔اگر انہوں نے فریب اور شرارت نہیں کی اور دھوکا بنا کر نہیں لائے تو یہی ہا جائے گا کہ سوار تو ضرور تھے آگے گننے اور اندازہ لگانےمیں ان کو غلطی لگ گئی۔اسی طرح دنیا کی مختلف قوموں کے متعلق کہا جاسکتا ہے کہ اگر ان کی شرارت نہیں اور وہ دھوکا نہیں دیتے تو بات یہی ہے کہ انہوں نے خدا کے متعلق دیکھا کچھ ضرور ہے مگر بھول جانے کی وجہ سے بعد میں کچھ سمجھنے لگ گئے ہیں۔ورنہ یہ غیر ممکن ہے کہ ہزاروں قومیں سینکڑوں ملکوں میں رہنے والی جن میں سے بعض کو آپس میں ملنے کا بھی کبھی اتفاق نہیں ہوا سب کی سب ایک زبان ہوکر اس امر کا اقرار کرنے لگیں کہ اس مخلوق کا ایک خالق ہے یہ اتفاق اور اتحاد بِلا کسی قوی وجہ کے بالکل ناممکن ہے۔ہستی باری کی دوسری دلیل دوسری دلیل جو خدا تعالیٰ کی ہستی کے متعلق قرآن کریم نے دی ہے۔یہ ہے قُلْ ھُوَاللّٰہُ اَحَدٌ(الاخلاص :۲)کہو خدا ہےاور ہے بھی ایک۔اس آیت میں جو یہ دو دعوے کئے گئے ہیں کہ(۱) خدا ہے اور (۲) ایک ہے۔ان میں سے پہلے کا ثبوت تو یہ دیا کہ اللّٰہُ الصَّمَدُ(الاخلاص :۳) اور دوسرے کے دو ثبوت دئیے کہ (۱)لَمْ يَلِدْ وَلَمْ يُوْلَدْ (۲)وَلَمْ يَكُنْ لَّہٗ كُفُوًا اَحَدٌ(الاخلاص :۴،۵ ) شرک دو قسم کا ہے ایک تو یہ کہ کئی وجود خدا کی حیثیت رکھنے والے ہوں چاہے اس سے چھوٹے ہوں یا بڑے۔دوسرے یہ کہ خدا کے سوا باقی ہو تو مخلوق ہی مگر اسے خدائی کا درجہ دیا گیا ہو تو ایک شرک فی الذات ہے اور دوسرا شرک فی الصفات۔مذکورہ بالا آیات میں اللہ تعالیٰ نے تینوں امور کا ثبوت دیا ہے اوّل خدا کی ذات کا۔دوسرے خدا کے واحد فی الذات ہونے کا۔تیسرے واحد فی الصفات ہونے کا۔چونکہ اس وقت میں اللہ تعالیٰ کے وجود کے متعلق بحث کر رہا ہوں اس لئے میں صرف اس آیت کو لیتا ہوں جس میں ہستی باری پربحث ہے اور وہ اللہُ الصَّمَدُ کے الفاظ ہیں۔یعنی خدا اپنی ذات میں کامل ہے۔صمد کے معنی ہوتے ہیں کہ وہ کسی کا محتاج نہ ہو اورباقی چیزیں اس کی محتاج