انوارالعلوم (جلد 6) — Page 277
مختلف حالتوں سے ترقی کرتا ہوا بنا ہے تو ساتھ ہی یہ بھی ماننا پڑے گا کہ انسان بننے کی صورت میں اس نے چاند ،سورج ،ستاروں اور شیروں ،بھیڑیوں اور سانپوں کو اچانک نہیں دیکھا۔بلکہ وہ اس سے پہلی حالت میں بھی ان چیزوں کو دیکھتا آیا ہے اوربعض کا مقابلہ کرتا چلا آیا ہے اور بعض کو قطعاً نظر انداز کرتا آیا ہے۔پس اگر جبکہ انسان بندریا اس سے بڑھ کر کسی اور جانور کی صورت میں سانپ سے خوب آشنا تھا بلکہ اس کا مقابلہ کیا کرتا تھا تو کیونکر ممکن ہے کہ جب وہ اس حالت سے ترقی کر جائے تو اسےپوجنے لگ جائے۔یہ چیز نئی نہ تھی بلکہ ایسی چیز تھی جس سے وہ نسلاً بعد نسل واقف چلا آیا تھا پس ارتقاء کا مسئلہ بھی اس خیال کو ردّ کر رہا ہے۔دوسرا جواب یہ ہے کہ اگر یہ درست ہے کہ خوف و حیرت سے خدا کا خیال پیدا ہوا تو چاہئے تھا کہ سب سے پہلے چاند اور سورج کی پرستش شروع ہوتی۔کیونکہ یہ وہ چیزیں ہیں جو سب کو اور سب سے پہلے نظر آتی ہیں۔لیکن ہم دیکھتے ہیں کہ جانوروں کی پرستش ستارہ پرستی سے پہلے کی ہے۔حالانکہ سورج ،چاند وغیرہ کو ہر شخص شروع سے ہی دیکھتا چلا آیا ہے۔تیسرا جواب یہ ہے کہ یہ خیال ہی غلط ہے کہ پہلے دوسری چیزوں کی عبادت شروع ہوئی بعد میں ایک وراء الورٰی ہستی کا خیال پیدا ہوا ہے۔خود تاریخ اس کو ردّ کر رہی ہے اوران لوگوں کا استدلال تاریخ سے درست نہیں ہے۔پُرانی سے پُرانی اقوام میں ہمیں ایک خدا کے خیال کا پتہ لگتا ہے۔دُنیا کی سب سے پُرانی قوم کا خیال خدا کے متعلق دُنیا میں پرانی اقوام جو اب تک محفوظ چلی آتی ہیں ان میں سے سب سےپُرانی میکسیکوکی قوم ہے۔یہ قوم بہت پرانی سمجھی جاتی ہے اور نہایت قدیم خیالات اس میں محفوظ پائے جاتے ہیں۔جب ہم اس قوم کو دیکھتے ہیں کہ اس میں خدا تعالیٰ کے متعلق کیا خیال ہے تو ہمیں معلوم ہوتا ہےکہ گو یہ ایک نہایت ہی پُرانی قوم ہے مگر اس میں ایک خدا کا خیال موجود ہے۔وہ کہتے ہیں ایک خدا ہےجسکا نام اوونا ولونا (AWONA WILLONA)ہے جو سب کا خالق ہے اور سب پر محیط ہے اور سب باپوں کا باپ ہے،ابتداء میں جب کچھ نہ تھا ولونا نے خیال کیا اور اس کے خیال کرنے کے بعد اس خیال سے نمّو کی طاقت پیدا ہوئی اور وہ طاقت بڑھتے بڑھتے وسیع فضا کی صورت میں تبدیل ہوگئی اور اس سے خدا کی روشنی جلوہ گر ہوئی اور فضا سکڑنے لگی جس سے یہ چاند اورسورج اور ستارے بنے۔یہ میکسیکوکے باشندوں کا نہایت ہی پُرانا خیال ہے۔اب خدا تعالیٰ کے متعلق جو تازہ سے تازہ خیالات ہیں ان کو ان سے ملا کر دیکھو وہ بھی ان کے مشابہ ہیں۔