انوارالعلوم (جلد 6)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 276 of 603

انوارالعلوم (جلد 6) — Page 276

بالکل ابتدائی زمانہ میں بھی اس رنگ میں پیش کیا جاسکتا تھاکہ انسان محسوس کرے کہ خدا تعالیٰ کا وجود دوسری اشیاء سے جو مخلوق ہیں بالکل الگ تھلگ ہے پس ہمیں اور قسم کے جوابوں کی ضرورت ہے۔میرے نزدیک اس اعتراض کا حقیقی جواب دینے سے پہلے ہمیں یہ دیکھنا چاہئے کہ اس اعتراض کی حقیقت کیا ہے؟ اگر ہم اس اعتراض کی حقیقت پر غور کریں تو پہلے اسکے مندرجہ ذیل اجزاء معلوم ہوتے ہیں۔۱ - خدا تعالیٰ کا خیال ڈر اور حیرت سے پیدا ہوا ہے۔۲ -اس میں تدریجی ترقی ہوئی ہے اب اگر یہ دونوں باتیں صحیح ہیں تو خدا تعالیٰ کے متعلق جو خیال بنی نوع انسان میں پیدا ہوا ہے اس سے یہ ثابت ہونا چاہئے کہ سب سے پہلے جن چیزوں کی عبادت شروع ہوئی ہے وہ وہی چیزیں ہیں جن سے سب سے پہلے بنی نوع انسان کو خوف پیدا ہوسکتا تھا۔اب اگر ذرا بھی تدبیر کیا جائے تو معلوم ہوگا کہ سب سے پہلے انسان کو خوف درندوں سے ہوسکتا تھا کیونکہ جس وقت انسان کے پاس حفاظت کا پورا سامان نہ تھا اور آبادیوں کا دستور نہ شروع ہوا تھا سب سے زیادہ خطرہ درنوں سے ہی ہوسکتا تھا مگر ہم دیکھتے ہیں کہ درندوں کی پرستش کیڑوں کی پرستش سے بہت کم ہے۔زیادہ تر سانپ کے پُجاری ملتے ہیں۔شیروں اور بھیڑیوں کی پوجا سانپ سے بہت کم ہوتی ہے حالانکہ سانپ چھپ کر حملہ کرتا ہے اور شیر ظاہر میں اور شیر کی آوازہے اورسانپ کم ہوتی ہے حالانکہ سانپ چھپ کر حملہ کرتا ہے اور شیر ظاہر میں اورشیر کی آواز ہے اورسانپ کی نہیں۔اور شیر کا جسم بڑا ہے اور سانپ کا نہیں۔اوربھیڑیے کا حال بھی شیر کی طرح کا ہے۔پس اگر تدریحی ترقی ہوتی تو سب سے پہلےشیر اور بھیڑیے اورریچھ وغیرہ کی پرستش ہوتی مگر ان کی پرستش اس کثرت سے اور اسی قدر پرانی نہیں ہے جس قدر کہ سانپ کی ہے جس سے معلوم ہوا کہ خدا کے خیال کے تدریجاًپیدا ہونے کا خیال ہی غلط ہے۔علاوہ ازیں یہ بات بھی قابل غور ہے کہ یہ اعتراض تب ہی پڑ سکتا تھا جبکہ تسلیم کیا جائے کہ انسان اچانک دُنیا میں پیدا ہوگیا تھا اور اس وجہ سے اسے بعض چیزوں کو دیکھ کر حیرت اور خوف پیدا ہوا مگر یہ عقیدہ رکھ کر تو فوراً ایک بِالا ہستی کو تسلیم کرنا ہوگا جس نے ارادہ کیا کہ انسان پیدا ہوا اور وہ پیدا ہوگیا اور خود یہ عقیدہ ہی خدا تعالیٰ کے وجود کو ثابت کردے گا۔پس خدا تعالیٰ کے انکار کے ساتھ اس امر کو بھی تسلیم کرنا ہوگا کہ انسان کی پیدائش بتدریج اور مختلف تغیرات سے ہوئی ہے اور اس قسم کے معترضین کا عقیدہ بھی یہی ہے۔اب اگر یہ بات درست ہے کہ انسان بتدریج