انوارالعلوم (جلد 6)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 247 of 603

انوارالعلوم (جلد 6) — Page 247

انوار العلوم جلد 4 ۲۴۷ آئینہ صداقت اور بزرگ ہونے کے اور یہ کہ ان کے بعد بھی اسی قسم کے خلفاء ہوں گے۔ مگر وہ ایسا کبھی نہیں کر سکتے کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ انہوں نے غلط بیانی سے کام لیا ہے اور وہ جانتے ہیں کہ حضرت خلیفہ المسیح الاول کی شائع شدہ تقریریں کثرت سے اس امر پر شاہد ہیں ۔ مولوی محمد علی صاحب کا یہ فعل واقعہ میں حیرت میں ڈال دینے والا ہے لیکن جبکہ ہم دیکھتے ہیں کہ انہوں نے حضرت مسیح موعود کی وصیت کو بھی پس پشت ڈال دیا ہے تو ان کے اس فعل پر زیادہ حیرت نہیں رہتی۔ کیونکہ باوجود اس کے کہ وہ حضرت مسیح موعود کی وفات پر حضرت مولوی نور الدین کو مطابق مطابق فرمان فرمان حضرت مسیح موعود علیہ الصلوة والسلام مندرجہ رسالہ الوصیت " جماعت کا خلیفہ تسلیم کر کے اس بارے میں اعلان کر چکے ہیں ، دیکھو اخبار در پرچہ جون ۱۹۰۸ء جلد نمبر ۲ صفحہ ۶) کہ سب احمدی ان کی بعیت (4) کریں ۔ آج لکھتے ہیں کہ حضرت مسیح موعود کی وصیت میں کہیں خلافت کا ذکر ہی نہیں اور آپ نے خلفاء کے لئے احمدی جماعت سے بیعت لینے کی اجازت ہی نہیں دی ۔ لموا جماعت کا رجحان معلوم کرنے کیلئے دستخط فرضی کی بہن لوگوں نے دیکھا کہ واری ڈولی صاحب نے نہ صرف یہ کہ ہم سے دھوکا کیا ہے بلکہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام اور حضرت خلیفہ السیح کی وصایا کی بھی بے قدری کی ہے اور جماعت میں اختلاف ڈلوانا چاہا ہے اور لوگوں سے اپنی تحریر پر رائیں بھی طلب کی ہیں۔ تو انہوں نے بھی ایک تحریر لکھ کر تمام آنے والے احباب میں اس غرض سے پھرائی کہ جماعت کا عندیہ معلوم ہو جاوے۔ اور جو لوگ ان کے خیالات سے متفق تھے ان سے دستخط چاہیے تا معلوم ہو کہ جماعت کا رحجان کدھر ہے۔ چنانچہ ان دستخطوں سے معلوم ہوا کہ موجودہ جماعت کا نوے فیصدی سے بھی زیادہ حصہ اس بات پر متفق تھا کہ خلیفہ ہونا چاہئے اور وہ بھی اسی رنگ میں جس رنگ میں کہ حضرت خلیفہ اول تھے۔ مولوی محمد علی صاحب اور ان کے رفقاء اسے سازش قرار دیتے ہیں۔ لیکن کیا لوگوں کی رائے دریافت کرنی سازش ہے کیا وہ اپنے ٹرکیٹ میں اس سے پہلے جماعت سے رائے طلب نہیں کر چکے تھے۔ کیا خود انہوں نے ہی یہ دروازہ نہیں کھولا تھا ۔ پس جس دروازہ کو وہ کھول چکے تھے اس میں سے مجبوراً آکر دوسروں کو گذرنا پڑا تو اس پر کیا اعتراض ہے بلکہ مولوی صاحب کے طریق عمل اور دوسرے فریق کے طریق عمل میں یہ فرق ہے کہ انہوں نے اس دروازہ کے کھولنے میں دھوکے سے کام لیا۔ اور اس نے علی الاعلان حتی کی راہ پر چل کر اس کا رخ کیا انہوں نے بھی لوگوں سے اپنے خیال پر رائے مانگی دوسرے فریق نے بھی اپنی رائے کی تصدیق چاہی۔