انوارالعلوم (جلد 6) — Page 248
مہمانوں کی آمد کا انتظار ہفتہ کے دن برابر مہمانوں کی آمد کا سلسلہ جاری رہا اور اس بات کا انتظار کیا گیا کہ کافی آدمی پہنچ جاویں تا پورے طور پر مشورہ ہوسکے۔ظہر تک قریباً ہزار آدمی سے زیادہ مختلف جماعتوں سے پہنچ گیا اورایک بڑا مجمع ہوگیا۔اپنے رشتہ داروں سے مشورہ ظہر٭کے بعد مَیں نےاپنے تمام رشتہ داروں کو جمع کیا اوران سے اس اختلاف کے متعلق مشورہ طلب کیا۔بعض نےرائے دی کہ جن عقائدکو ہم حق سمجھتے ہیں ان کی اشاعت کے لئے ہمیں پوری طرح کوشش کرنی چاہئےاورضرور ہے کہ ایسا آدمی خلیفہ ہو جس سے ہمارے عقائد متفق ہوں۔مگر مَیں نے سب کو سمجھایا کہ اصل بات جس کا اس وقت ہمیں خیال رکھنا چاہئے وہ اتفاق ہے خلیفہ کا ہونا ہمارے نزدیک مذہباً ضروری ہے۔پس اگر وہ لوگ اس امر کو تسلم کرلیں تو پھر مناسب یہ ہے کہ اوّل تو عام رائے لی جاوے اگر اس سے وہ اختلاف کریں تو کسی ایسے آدمی پر اتفاق کرلیا جاوے جو دونوں فریق کے نزدیک بے تعلق ہو۔اوراگر یہ بھی وہ قبول نہ کریں تو ان لوگوں میں سے کسی کے ہاتھ پر بیعت کرلی جاوے اور میرے اصرار پر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے تمام اہلِ بیعت نے اس بات کو تسلیم کرلیا یہ فیصلہ کرکے مَیں اپنے ذہن میں خوش تھا کہ اب اختلاف سے جماعت محفوظ رہے گی مگر خدا تعالیٰ کو کچھ اور ہی منظور تھا۔مولوی محمد علی صاحب اوران کے ساتھیوں سے گفتگو میں باہر آیا تو مولوی محمد علی صاحب کا رقعہ مجھے ملا کہ کل والی گفتگو کے متعلق ہم پھر کچھ گفتگو کرنی چاہتے ہیں۔مَیں نے ان کو بلوا لیا اس وقت میرے پاس مولوی صاحب بھی اپنے بعض احباب سمیت وہاں آگئے اورپھر کل کی بات شروع ہوئی۔مَیں نے پھر اس امر پر زور دیا کہ خلافت کے متعلق آپ لوگ بحث نہ کریں۔صرف اس امر پر گفتگو ہو کہ خلیفہ کون ہو۔اور وہ اس بات پر مُصر تھے کہ نہیں ابھی کچھ بھی نہ ہو۔کچھ عرصہ تک انتظار کیاجاوے۔سب جماعت غور کرے کہ کیا کرنا چاہئے پھر جو متفقہ فیصلہ ہو اس پر عمل کیاجاوے۔میرا جواب وہی کل والا تھا اور پھر مَیں نے ان کو یہ بھی کہا کہ اگر پھر بھی اختلاف ہی رہے تو کیا ہوگا؟ اگر کثرت رائے سے فیصلہ ہونا ہے تو ابھی کیوں کثرت رائے پر فیصلہ نہ ہو۔درمیان میں کچھ عقائد پر بھی گفتگو چھڑ گئی *مجھے ایسا ہی یاد ہے کہ یہ گفتگو ہفتہ کو ہوئی لیکن بعض لوگوں کا خیال ہے کہ جمعہ کو ہی یہ مشورہ ہوا تھا۔