انوارالعلوم (جلد 6) — Page 226
تاکہ اس کے الزامات کی تحقیق کی جاسکے کیونکہ مدعی جب تک ثبوت نہ دے اس کا جواب کیا دیاجاسکتا ہے؟ قانون شریعت کو بھی توڑا گیا ہے کیونکہ لکھنے والااس شخس کی مخالفت کرتا اور اسے مشرک اور بد اخلاق قرار دیتا ہے جس کے ہاتھ پر وہ بیعت کرچکا ہے اورپھر ایسے ناپاک افتراء بگیر ثبوت و دلیل کے شائع کرتا ہے جن کا بغیر ثبو ت کے منہ پر لانا بھی شیریعت حرام قرار دیتی ہے۔دوسرا امر یہ کہ یہ لوگ اس بات کا قطعی طور پر فیصلہ کرچکے تھے کہ خواہ کچھ ہوجاوے اپنے مدعا کے حصول کے لئے جماعت کے تفرقہ کی بھی پرواہ نہیں کریں گے اور جماعت کے توڑنے کے لئے حضر ت خلیفۃ المسیح کی زندگی کے زمانہ میں ہی تدابیر شروع کردی تھیں۔ٹریکٹوں کے لکھنے والے کئی ایک تھے ہم یہ نہیں کہتے کہ یہ ٹریکٹ خود مولوی محمد علی صاحب نے لکھا مگر بہرحال اس میں کوئی شک نہیں کہ اس کا لکھنے والا ان کے دوستوں اور ہم خیالوں میں سے ضرور تھا اورایک نہ تھا کئی تھے بلکہ کوئی جماعت تھی کیونکہ ایک سلسلہ ٹریکٹ کی اشاعت اوروہ بھی کثرت سے ایک شخص کا کام نہیں۔اس کے انتظام اس کے خرچ اوراس کے ڈسپیچ کے لئے مددگاروں کی ضرورت ہے اوربغیر مددگاروں کے یہ کام ہو نہیں سکتا۔پس ضرور ہے کہ ان کے ہم خیالوں کی ایک خفیہ سوسائٹی بنائی گئی تھی جس نےیہ کام کیا۔ٹریکٹوں کا اثر اوران کا جواب جب یہ ٹریکٹ شائع ہوئے تو ان کا اثر ایک بمب سے زیادہ تھا وہ جماعت جو مسیح موعود کی قائم کردہ تھی اس نے اس ٹریکٹ کی اشاعت پر اپنی ذمہ داری کو پھر بڑے زور سے محسوس کیا اور چاہا کہ اس کا جواب دیا جاوے۔جماعت کی ناراضگی اور حضرت خلیفۃ المسیح کے غضب سے ڈر کر پیغام صلح میں جو تائیدی ریمارکس شائع ہوئے تھے اس کی تردید میں ایک مختصر سانوٹ متعلقین پیغام صلح نے آخر میں شائع کیا، لیکن اس کے الفاظ ایسے پیچدار تھے کہ ان میں ان ٹریکٹوں کے مضمون کی اگر تردید نکلتی تھی تو تائید کا پہلو بھی سات ہی تھا مگر اصل جواب ایک اور جماعت کے لئے مقدر تھا اوروہ انصاراللہ کی جماعت تھی چونکہ راقم ٹریکٹ نے ان ٹریکٹوں میں انجمن انصاراللہ کے خلاف خاص طور پر اس ٹریکٹ کا جواب اس جماعت کے سُپرد فرمایا جو آپ کے ارشاد کے ماتحت دو ٹریکٹوں کی صورت میں شائع کیا گیا۔پہلے ٹریکٹ میں اظہار الحق نمبر اوّل کا جواب لکھا گیا اواس کا نام خلافت احمدیہ رکھا گیا۔دوسرے میں