انوارالعلوم (جلد 6)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 225 of 603

انوارالعلوم (جلد 6) — Page 225

انوار العلوم جلد 4 ۲۲۵ آئینہ صداقت اور عنقریب ایک نوٹس شائع کرنے والے ہیں جس سے اندیشہ بہت بڑے ابتلاء کا ہے۔ اگر اس میں ذرہ بھی تخالف خلیفہ صاحب کی رائے سے ہو تو برافروختہ ہو جاتے ہیں سب حالات عرض کئے گئے مگر ان کا جوش فرو نہ ہوا اور ایک اشتہار جاری کرنے کا مصمم ارادہ رکھتے ہیں ۔ آپ فرمادیں ہم اب کیا کر سکتے ہیں ؟ ان کا اد یہ ہے کہ انجمن کالعدم ہو جائے اور ان کی رائے ہے ادنی تخالف نہ ہو۔ مگر یہ وصیت کا منشاء نہیں اس میں یہی حکم ہے کہ تم سب میرے بعد مل جل کر کام کرو۔ شیخ صاحب اور شاہ صاحب بعد سلام مسنون مضمون منشاء واحد ہے ۔ خاکسار مرز العقوب بیگ ۲۹/۹/۱۹۰۹ تاریخ احمدیت جلدیم صفحه ۱۳۹۸) ه - نهایت واضح اور صاف بات اس امر کی تائید میں کہ یہی لوگ ان ٹریکٹوں کے شائع کرنے والے ہیں ۔ یہ ہے کہ ان ٹریکٹوں کے شائع ہوتے ہی مینجر پیغام صلح سید انعام اللہ شاہ اور پیغام صلح کے انتظامی کاموں کی روح رواں بابو منظور الٹی دونوں کے دستخط سے ایک تحریر پیغام صلح کے ۱۶ نومبر کے پرچہ میں شائع ہوئی جس میں اس الزام کو رد کرتے ہوئے کہ انصار اللہ ہم دونوں کو ٹریکٹیوں کا شائع کرنے والا قرار دیتے ہیں۔ لکھا ہے ۔ جو ٹریکٹ ہم نے دیکھے ہیں ان میں ذرا تک نہیں کہ اکثر باتیں ان کی سچی ہیں۔ جہانتک کہ ان کے متعلق ہمارا علم ہے اور بعض باتیں ہمارے علم اور ہمارے مشاہدہ سے بالاتر ہیں ۔ اس لئے ان کی نسبت ہم کچھ نہیں کر سکتے جب ہمارا حضرت مسیح موعود کی ہر بات کے ساتھ پورا پورا ایمان ہے تو دیگر فروعی باتوں کے اختلاف یا ٹریکیٹ ہائے کی بیان کردہ باتوں کے ساتھ اتفاق رائے رکھنے کے جرم میں اگر ہماری نسبت غلط فہمی پھیلائی جانی لاہوری انصار اللہ نے مناسب سمجھی ہے اور ہمارے خلاف کچھ لکھنے کا ارادہ کیا ہے۔ تو ہماری طرف سے کچھ کمی بیشی کا کلمہ لکھا گیا تو اس کی ذمہ داری بھی ان پر ہوگی ۔ ٹریکٹوں کی اللہ کی اشاعت سے دو باتوں کا ظاہر ہونا یہ پانچ بوت ہیں اس امر کے کہ ان ٹریکٹوں کے شائع کرنے والے مولوی محمد علی صاحب کے رفقاء اور ہم خیال تھے ۔ ان ٹریکیوں کی اشاعت ہم پر دو امر خوب اچھی طرح ظاہر کر دیتی ہے ایک تو یہ کہ مقابلہ کے وقت اس جماعت سے کسی قانون حکومت یا قانون اخلاق یا قانون شریعت کی پابندی کی امید نہیں رکھی جا سکتی کیونکہ اس ٹریکیٹ کی اشاعت میں قانون حکومت کو بھی توڑا گیا ہے کیونکہ مطبع کا نام نہیں دیا گیا حالانکہ یہ قانون کے خلاف ہے ۔ قانون اخلاق کی بھی خلاف ورزی کی گئی ہے کیونکہ حضرت خلیفہ المسیح اور مجھ پر اور میرے دیگر رشتہ داروں پر ناپاک سے ناپاک حملے کئے گئے اور الزام لگانے والا اپنا نام نہیں بتاتا۔