انوارالعلوم (جلد 6) — Page 219
طور پر قادیان کی جناعت پر اعتراضات ہونے لگے۔اوران کے جوابات الفضل میں حضرت خلیفۃ المسیح کے مشورہ سے شائع ہوتے رہے۔گو یہ لوگ جونہی حضرت خلیفۃ المسیح کی ناراضگی کا علم پاتے تھے۔فوراً آکر آپ سے معافی مانگ لیتے مگر پھرجا کر وہی کام شروع ہوجاتا۔یہ زمانہ جماعت کے لئے بہت نازک تھا کیونکہ دشمن بھی اس اختلاف سےآگاہ ہوگئے جو اندر ہی اندر کئی سال سے نمودا ر ہو رہا تھا اورانہوں نے اس علم سے فائدہ اُٹھا کر ان لوگوں کو فساد پر اوربھی آمادہ کرنا شروع کیا۔اور کئی قسم کے سبز باغ دکھانے شروع کئے۔حتّٰی کہ حضرت خلیفۃ المسیح کو پیغامِ صُلح کا نام پیغامِ جنگ رکھنا پڑا۔خفیہ ٹریکٹ گو اخبار کےذریعہ سے بہت کچھ زہر یہ لوگ ہمارے خلاف اُگلتے تھے مگر پھر بھی حضرت خلیفۃ المسیح کا خوف ساتھ لگا رہتا تھا۔پس اس کے دل کا حوصلہ پوری طرح نہ نکلتا تھا اور خود حضرت خلیفۃ المسیح کے خلاف تو کھُلم کُھلا کچھ لکھ ہی نہ سکتے تھے۔اس لئے بنگال کے انارکسٹوں کے شاگرد بن کر مولوی محمد علی صاحب کے ہم خیال لوگوں کی ایک جماعت نے ایسے ٹریکٹوں کا ایک سلسلہ شروع کیا جن کے نیچے نہ پریس کا نام ہوتا تھا اورنہ لکھنے والے کا۔چنانچہ اس سلسلہ میں ان لوگوں نے دو ٹریکٹ شائع کئے جن کا نام اظہار الحق نمبر ۱۔اور اظہار الحق نمبر ۲ رکھا گیا۔یہ دونوں ٹریکٹ وسط نومبر ۱۹۱۳ء میں ایک دو دن کے وقفہ سے ایک دوسرے کے بعد شائع ہوئے۔پہلا ٹریکٹ چار صفحہ کا تھااور دوسرآٹھ صفحہ کا۔دونوں کے آخر میں لکھنے والے کے نام کے بجائے داعی الی الوصیت لکھا ہوا تھا۔یعنی حضرت مسیح موعودؑ کی وصیت کی طرف جماعت کو بلانے والا۔پہلے ٹریکٹ کا خلاصہ ٹریکٹ اوّل کا خلاصہ یہ تھا کہ اس زمانہ میں جمہوریت کی اشاعت اس بات کی طرف اشارہ کرتی تھی کہ اس زمانہ کا ما ٔمور بھی جمہوریت کا حامی ہوگا چنانچہ ایسا ہی ہوا۔حضرت مسیح موعود ؑسوائے ان امور کے جن میں وحی ہوتی احباب سے مشورہ کرلیا کرتے تھے اور فرماتے تھے کہ ہمیں خدا تعالیٰ نے اس لئے ما ٔمور کیا ہے کہ انسانوں کی شانیں جو حد سے زیادہ بڑھا دی گئی ہیں ان کو دُور کریں اورجب آپؑکو اپنی وفات کے قُرب کی خبر خدا تعالیٰ نے دی تو آپؑنےاپنی وصیت لکھی اوراس میں اپنے بعد جانشین کا مسئلہ اس طرح حل کیا کہ آپؑ کے بعد جمہوریت ہوگی اورایک انجمن کے سُپرد کام ہوگا۔مگر افسوس کہ آپ ؑکی وفات پر جماعت نے آپؑ کے