انوارالعلوم (جلد 6)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 218 of 603

انوارالعلوم (جلد 6) — Page 218

سے مسلمان ہیں۔خواجہ صاحب نے فوراً تمام دُنیا میں شور مچا دیا کہ ان کی کوششوں سے ایک لارڈ مسلمان ہوگیا ہے۔اس خبر کا شائع ہونا تھا کہ خواجہ صاحب ایک بُت بن گئے اور چاروں طرف سے ان کی خدمات کا اعتراف ہونے لگا۔مگر وہ لوگ جن کو معلوم تھا کہ لارڈ ہیڈ لے چالیس سال سے مسلمان ہے۔اس خبر پر نہایت حیران تھے کہ خواجہ صاحب صداقت کو اس ھد تک کیوں چھوڑ بیٹھے ہیں؟مگر خواجہ صاحب کے مدِّ نظر صرف اپنے مشن کی کامیابی تھی۔جائز یا ناجائز ذرائع سے وہ اپنے مشن کو کامیاب بنانے کی فکر میں تھے۔میرے نزدیک لارڈ ہیڈلے کے اسلام کا اظہار ان احمدیوں میں سے بیسیوں کی ٹھوکر کا موجب ہوا ہے جو اس وقت ان لوگوں کے ساتھ ہیں۔کیونکہ بعض لوگ ان کی ان خیالی کامیابیوں کو دیکھ کر یہ یقین کرنے لگے تھے کی یہ قالٰہی تائید بتا رہی ہے کہ خواجہ صاحب حق پر ہیں۔حالانکہ یہ تائید اٰلی نہ تھی بلکہ خواجہ صاحب کی اخلاقی موت تھی اورجب تک سلسلہ احمدیہ باقی رہے گا اور انشاء اللہ قیامت تک باقی رہے گا۔خواجہ صاحب کی یہ خلاف بیانی اور چالاکی بھی دنیا کو یاد رہے گی اور وہ اسے دیکھ دیکھ کر انگشت بدنادان ہوتے رہیں گے۔خواجہ صاحب کی اس کامیابی کو دیکھ کر جو بعد میں محض خیالی ثابت ہوئی۔جماعت کے ایک حصہ کے قدم پھر لڑکھڑاگئے اورجیسا کہ مَیں نے لکھا ہے وہ اسے آسمانی مدد دمجھ کر اپنی عقل کو غلطی خوردہ خیال کرکے خواجہ صاحب کی ہم خیالی میں ہی اپنی فلاح سمجھنے لگے اور پیغام صلح کے مضامین ان کے لئے اوربھی باعث ٹھوکر ہوگئے۔لیکن اس کشمکش کا یہ فائدہ بھی ہوگیا کہ جو کوششیں خفیہ کی جاتیں تھیں ان کا اظہار ہوگیا اور جماعت ہوشیار ہوگئی۔کچھ حصہ جماعت کا بیشک ہلاک ہوگیا۔مگر ان کی ہلاکت دوسروں کے بچانے کا ذریعہ بن گئی۔پیغام میں جماعت قادیان پر حملے جب اختلاف کا اظہار ہوگیا تو اب زیادہ پوشیدگی کی ضرورت نہ رہی۔پیغام صلح میں خوب کھلم کُھلا ------------------------------------------------------------------------------------- نسبت لکھتے ہیں:- ’’میرے موجودہ اعتقادات میری کئی سالوں کی تحقیقات اور تفتیش کا نتیجہ ہیں۔تعلیم یافتہ مسلمانوں کے ساتھ مذہب کے بارے میں میری اصلی خط و کتابت چند ہی ہفتے قبل شروع ہوئی۔اور یہ بات میری دلی خوشی اورمسرت کا باعث ہوئی کہ میرے تمام خیالات اسلام کے عین مطابق نکلے۔میرے دوست خواجہ کمال الدین صاحب نےذرہ بھر کوشش مجھے اپنے زیر اثر لانے کیلئے نہیں کی۔‘‘ (پرچہ پیغام ۱۶؍دسمبر ۱۹۱۳ء نمبر ۶۷صفحہ۳)