انوارالعلوم (جلد 6) — Page 217
انوار العلوم جلد 4 ۲۱۷ آئینه صداقت یہ لیکن منع فرمایا کہ میں ان مضامین میں آپ کی طرف اشارہ کروں ۔ اپنی طرف سے شائع کر دوں جب مضامین شائع ہوئے تو لوگوں میں عام طور پر یہ پھیلایا گیا کہ میں نے ان مضامین میں مولوی محمد علی صاحب کو جن کے مضامین پیغام صلح میں شائع ہوئے ہیں گالیاں دی ہیں ۔ چنانچہ ڈاکٹر محمد شریف صاحب بٹالوی حال سول سرجن ہوشیار پور جو اس وقت غالباً سرگودھا میں تھے قادیان میں تشریف لائے تو انہوں نے مجھ سے اس امر کے متعلق ذکر کیا ۔ میں نے ان کو جواب دیا کہ یہ مضامین میرے نہیں بلکہ حضرت خلیفہ المسیح کے لکھوائے ہوئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ کس طرح ہو سکتا ہے ؟ کہ حضرت خلیفہ المسیح جو مولوی محمد علی صاحب کا اس قدر ادب کرتے ہیں ایسے الفاظ آپ کی نسبت لکھوائیں ۔ میں نے اسی وقت وہ اخبار کا پرچہ منگوا کر جس پر ان کو اعتراض تھا اس کے حاشیہ پر یہ لکھ دیا کہ یہ مضمون حضرت خلیفہ المسیح کا لکھوایا ہوا ہے اور جس قدر سخت الفاظ ہیں وہ آپ کے ہی ہی ہیں میں نے اپنی طرف سے نہیں لکھنے اور وہ پرچہ ان کو دے دیا کہ آپ اس پرچہ کو حضرت خلیفۃ المسیح کے پاس۔ ں لے جاویں اور ان کے سامنے رکھ دیں ۔ پھر آپ کو معلوم ہو جاوے گا کہ آیا ان کا لکھایا ہوا ہے یا میرا لکھا ہوا ہے۔ وہ اس پر چہ کو آپ کے پاس لے گئے اور چونکہ اسی وقت انہوں نے واپس جانا تھا ۔ پھر مجھے تو نہیں ملے مگر اس پرچہ کو اپنے ایک رشتہ دار کے ہاتھ مجھے بھجوایا اور کہلا بھیجا کہ آپ کی بات درست ہے۔ یہ صاحب ایک معزز عہدہ دار ہیں اور ہیں بھی مولوی محمد علی صاحب کے ہم خیالوں میں ۔ میری بیعت میں شامل نہیں ۔ ان سے قسم دے کر مولوی محمد علی صاحب دریافت کر سکتے ہیں کہ یہ واقعہ درست ہے یا نہیں۔ و غرض کانپور کی مسجد کا واقعہ جماعت میں ایک مزید تفرقہ کا باعث بن گیا۔ کیونکہ اس کے ذریعہ سے ایک جماعت تو سیاست کے انتہا پسند گروہ کی طرف چلی گئی اور دوسری اس تعلیم پر قائم رہی جو اسے حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے دی تھی اور خدا تعالیٰ کا شکر ہے کہ مؤخر الذکر جماعت تعداد میں بہت زیادہ تھی ۔ لارڈ ہونے کا اعلان انا یا اس میں کئے لارڈ ہیڈلے کے مسلمان ہونے کا اعلان ان ہی ایام میں خواجہ صاحب کو ایک پیمرا نے مسلمان لارڈ ہیڈلے مل گئے ۔ وہ قریباً چالیس سال سے مسلمان تھے مگر بوجہ مسلمانوں کی مجلس نہ ملنے کے اظہار اسلام کے طریق سے ناواقف تھے ۔ خواجہ صاحب کے ملنے پر انہوں نے اسلام کا اظہار کیا اور بتایا کہ وہ چالیس سال لارڈ صاحب ( یورپین انجینئر جو ۱۸ نومبر ۱۹۱۳ کو مسلمان ہوئے ۔ تاریخ احمدیت جلد ۴ ۴۳ ) خود اپنے اسلام لانے کی