انوارالعلوم (جلد 6)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 202 of 603

انوارالعلوم (جلد 6) — Page 202

تک بلا دینے والا ثابت ہوا۔اورخدا تعالیٰ کے فضل سے سوائے ایک قلیل گروہ کے باقی سب جماعت نے اس بات کو دل سے قبول کرلیا کہ واقع میں اگر وہ اس سحر کے اثر کے نیچے رہتے۔جو ان پر کیا گیا تھا تو وہ ضرور کسی وقت صداقت کو بھول جاتے اور بہتوں نے اس پر شکر و اطمینان کا اظہار کیا۔اورجماعت میں ایک نئی رُوح اور تازہ جوش پیدا ہوگیا۔اورہر ایک احمدی سوائے ایک قلیل تعداد کے اپنے فرض کی ادائیگی کے لئے آمادہ ہوگیا۔خواجہ صاحب کا مضمون چونکہ یہ سب کوشش خواجہ صاحب اوران کے رفقاء کی تحریک پر ہورہی تھی جب میرا یہ مضمون شائع ہوا تو خواجہ صاحب کو فکر ہوئی اورانہوں نے ایک مضمون لکھا جس میں میرے مضمون کے معنے بگاڑکر اس طرح کئے گئے۔جو بالکل اصل مضمون کے اُلٹ تھے اور جیسا کہ حضرت خلیفۃ المسیح الاوّل نے خود میرے سامنے بیان فرمایا کہ آپ سے یہ کہہ کر دستخط کروائے گئے کہ خواجہ صاحب کا وہی عقیدہ ہے جو میرا ہے۔صرف خواجہ صاحب نے ایسے الفاظ میں میرے مضمون کی تشریح کی ہے جو لوگوں کے لئےاشتعال دلانے کاباعث نہ ہو۔مولوی محمد علی صاحب کے خیالات کی قلبِ ماہیبت کا وقت جہاں تک میرا خیال ہے۔یہی وہ وقت ہے جبکہ مولوی محمد علی صاحب کے خیالات کی قلب ماہیت ہوئی۔کیونکہ ان کے پہلے مضامین سے صاف طور پر ثابت ہوتا ہے کہ وہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو نبی سمجھتے تھے اس وقت حالات ہی ایسے پیدا ہوگئے تھے کہ اگر کفر واسلام غیر احمدیان کی بحث میں خواجہ صاحب ناکامیاب ہوتے تو مولوی صاحب کی امیدوں کو سخت صدمہ پہنچتا تھا۔کیونکہ بوجہ اس قبولیت کے جو لیکچروں کی وجہ سے خواجہ صاحب کو حاصل ہوچکی تھی۔مولوی محمد علی صاحب کھڑےتھے۔جماعت پر ان کا خاص اثر تھا اورلوگ ان کی باتیں سُنتے اور قبول کرنے کے لئے تیار تھے اور مولوی صاحب اوران کے رفقاء اسی رسوخ سے کام لے کر اپنے ارادوں کے پورا کرنے کی اُمید میں تھے۔پس اسی مجبوری نے معلوم ہوتا ہے کہ مولوی صاحب کے خیالات پر اثر کیا اورآپ انہی دنوں میں کھلے طور پر خواجہ صاحب کے ہمخیال ہوگئے اوراب گویا جماعت عقیدتاً ا ور سیاستاً ایک ہوگئی ہے۔ورنہ اس سے پہلے خود مولوی محمد علی صاحب خواجہ صاحب کی طرزِ تبلیغ کے مخالف تھے اور مارچ ۱۹۱۰ء ؁یا دسمبر ۱۹۱۰ءکی کانفرنس