انوارالعلوم (جلد 6) — Page 196
انوار العلوم جلد 4 194 آئیز صداقت ۵۵ ہے تو بیعت دم " راندرونی اختلافات سلسلہ احمدیہ کے اسباب صلہ مطبوعہ لاہور ۱۹۱۴ ) خفیہ مخالفت اب میں پھر اس مضمون کی طرف آتا ہوں۔ حضرت خلیفہ مسیح ان لوگوں کی ان حرکات سے ناراض ہوئے اور سخت ناراض ہوئے۔ ان کو دوبارہ بیعت کرنی پڑی ۔ لیکن جہاں دوسرے لوگوں کے دل صاف ہوئے ۔ ان کے دلوں میں کینہ کی آگ اور بھی بھڑک اُٹھی ۔ صرف فرق یہ تھا کہ پہلے تو اس آگ کے شعلے کبھی او پر بھی آجاتے تھے ۔ اب ان کو خاص طور پر سینہ میں ہی چھپایا جانے لگا تاکہ وقت پر ظاہر ہوں ۔ اور سلسلہ احمدیہ کی عمارت کو جلا کر راکھ کر دیں۔ مولوی محمد علی صاحب اس واقعہ کے بعد کلی طور پر ان لوگوں کے ہاتھ میں پڑ گئے جو عقیدہ سلسلہ سے علیحدہ تھے ۔ اور ان فتنوں نے ان کو ان لوگوں کے ایسا قریب کر دیا کہ آہستہ آہستہ دو تین سال کے عرصہ میں نامعلوم طور پر ان کے ساتھ متحد فی العقیدہ ہو گئے۔ خواجہ صاحب موقع شناس آدمی ہیں انہوں نے تو یہ رنگ اختیار کیا کہ خلافت کے متعلق عام مجالس میں تذکرہ ہی چھوڑ دیا۔ اور چاہا کہ اب یہ معاملہ دبا ہی رہے تاکہ جماعت احمدیہ کے افراد آئندہ ریشہ دوانیوں کا اثر قبول کرنے کے قابل رہیں ۔ " خلیفہ کی بجائے پریزیڈنٹ کا لفظ استعمال کرنا انہوں نے جھایا کہ اگران ایں آج اس مسئلہ پر پوری روشنی پڑی تو آئندہ پھر اس میں تاویلات کی گنجائش نہ رہے گی۔ چنانچہ اس بات کو مد نظر رکھ کر ظاہر میں انہوں نے خلافت کی اطاعت شروع کر دی ۔ اور یہ تدبیر اختیار کی گئی کہ صدر انجمن احمدیہ کے معاملات میں جہاں کہیں بھی حضرت خلیفہ المسیح کے کسی حکم کی تعمیل کرنی پڑتی ۔ وہاں کبھی حضرت خلیفہ امسیح نہ لکھا جاتا بلکہ یہ لکھا جاتا کہ پریزیڈنٹ صاحب نے اس معاملہ میں یوں سفارش کی ہے۔ اس لئے ایسا کی جاتا ہے ۔ جس سے ان کی غرض یہ تھی کہ صدرانجمن احمدیہ کے ریکارڈ سے یہ ثابت نہ ہو کہ خلیفہ کبھی انجین کا حاکم رہا ہے ۔ چنانچہ حضرت خلیفہ المسیح کی وفات کے بعد انہوں نے اس طرح جماعت کو دھوکا دینا بھی چاہا ۔ مگر واقعات کچھ ایسے جمع ہو گئے تھے کہ مجبوراً ان کو اس پہلو کو ترک کرنا پڑا ۔ اور اب یہ لوگ خلافت کی بحث میں پڑتے ہی نہیں تاکہ لوگوں کو ان پرانے واقعات کی یاد تازہ نہ ہو جا دے۔ اور ان کی ناجائز تدابیر آنکھوں کے سامنے آکر ان سے بدظن نہ کر دیں۔ غرض انہوں نے یہ کام شروع کیا کہ حضرت خلیفہ اسیح کی باتیں تو مانتے مگر خلیفہ کا لفظ نہ آنے دیتے ۔ بلکہ پریزیڈنٹ کا لفظ استعمال کرتے ۔ مگر خدا تعالیٰ چاہتا تھا کہ ان کی پردہ دری کرے ۔