انوارالعلوم (جلد 6) — Page 193
انوار العلوم جلد 4 ۱۹۳ آئینه صداقت امن کی بناء پڑنی تھی ۔ اس دن یہ فیصلہ ہونا تھا کہ احمدیت کیا رنگ اختیار کرے گی ۔ دنیا کی عام سوسائیٹیوں کا رنگ یا رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی جماعت کا رنگ اس دن اہل دنیا کی زندگی یا موت کے سوال کا فیصلہ ہونا تھا ۔ بیشک آج لوگ اس امر کو نہ سمجھیں۔ لیکن ابھی زیادہ عرصہ نہ گزرے گا کہ لوگوں کو معلوم ہو جاوے گا کہ یہ منفی مذہبی پر ہیبت ناک سیاسی لہروں سے زیادہ پاک اثر کرنے والی اور دنیا میں نیک اور پُر امن تغییر پیدا کرنے والی ہے۔ غرض لوگ جمع ہوئے اور حضرت خلیفہ امسیح الاول بھی تشریف لائے ۔ آپ کے لئے درمیان مسجد میں ایک جگہ تیار کی گئی تھی مگر آپ نے وہاں کھڑے ہونے سے انکار کر دیا ۔ اور ایک طرف جانب شمال اس حصہ مسجد میں کھڑے ہو گئے جسے حضرت مسیح موعود نے خود تعمیر کروایا تھا۔ * حضرت خلیفہ اول کی تقریر پھر آپ نے کھڑے ہو کر تقریر شروع کی اور بتایا کہ خلافت ایک شرعی مسئلہ ہے ۔ خلافت کے بغیر جماعت تو غیر جماعت ترقی نمیر نہیں کر سکتی اور بتایا کہ مجھے خدا تعالیٰ نے بتایا ہے کہ اگر ان لوگوں میں سے کوئی شخص مرتد ہو جا دے گا۔ ہوجاد تو میں اس کی جگہ ایک جماعت تجھے دوں گا۔ پس مجھے تمہاری پرواہ نہیں ۔ خدا کے فضل سے میں یقین رکھتا ہوں کہ وہ میری مدد کریگا ۔ پھر خواجہ صاحب اور مولوی محمد علی صاحب کے جوابوں کا ذکر کر کے کہا کہ مجھے کہا جاتا ہے کہ خلیفہ کا کام نماز پڑھا دینا یا جنازہ یا نکاح پڑھا دینا با بیعت لے لینا ہے ۔ یہ جواب دینے والے کی نادانی ہے اور اس نے گستاخی سے کام لیا ہے ۔ اس کو توبہ کرنی چاہئے۔ ورنہ نقصان اُٹھائیں گے دورانِ تقریر میں آپ نے فرمایا کہ تم نے اپنے عمل سے مجھے بہت دکھ دیا ہے اور منصب خلافت کی ہنگ کی ہے ۔ اسی لئے میں آج اس حصہ مسجد میں کھڑا نہیں ہوا ۔ جو تم لوگوں کا بنایا ہوا ہے۔ بلکہ اس حصہ مسجد میں کھڑا ہوا ہوں جو مسیح موعود علیہ السلام کا بنایا ہوا ہے۔ اس حصہ مسجد ۔ تقریر کا اثر جوں جوں آپ تقریر کرتے جاتے تھے سوائے چند سرغنوں کے باقیوں کے بیٹے کھلتے جاتے تھے اور تھوڑی ہی دیر میں جو لوگ نور الدین کو اس کے منصب سے اس بات کو یاد رکھنا چاہئے کہ مسجدم چاہئے کہ مسجد مبارک ابتداء بہت چھوٹی تھی۔ دعویٰ سے پہلے حضرت مسیح موعود نے صرف علیحدہ بیٹھ کر عبادت کرنے کی نیت سے اپنے گھر سے ملحق ایک گلی پر چھت ڈال کر اسے تعمیر کیا تھا۔ کوئی تمہیں آدمی اس میں نماز پڑھ سکتے تھے۔ جب دعوی کے بعد لوگ ہجرت کر کے یہاں آنے لگے اور جماعت میں ترقی ہوئی۔ تو جماعت کے چندہ سے اس مسجد کو بڑھایا گیا۔ اور پرانے حصہ مسجد کا نقشہ حسب ذیل ہے۔ جنوب نیا شمال