انوارالعلوم (جلد 6) — Page 184
دینا حد درجہ کی بے باکی ہے (یہ اشارہ اس بات کی طرف ہے جو وطن کی تحریک کے متعلق کہی گئی تھی کہ حضرت مسیح موعودؑ کا ذکر درمیان سے ہٹاک رکی امردہ اسلام پیش کیاجاوے۔مرزا محمود احمد) اگر احمد اور محمد جدا نہیں توجس رنگ میں محمدی تعلیم تیرہ سو سال سے ہوتی چلی آئی ہے اسے اب مُردہ کیوں قرار دیاجاوے۔اسلام کی ہتک اس سے زیادہ نہیں ہوسکتی کہ اس کی زندگی کا دارو مدار ایک تیرہ سو سال بعد آنے والے شخص پر رکھا جاوے۔۹ - یہ علمی زمانہ ہے قرآن کریم کے علمی مضامین کی اشاعت سے بہت فائدہ کی اُمید تھی۔ضمیمہ الگ شائع ہوتا مرید اسے لیتے اور ریویو کی اشاعت بڑھ جاتی مگر افسوس کی احمدی جماعت نے تنگ ظرفی کا نمونہ دکھایا اور جب کہ غیر احمدی تنگ ضرفی کی دیوار کو توڑنے لگے تھے انہوں نے اسے کھڑا کردیا۔پھر دوسرے خط میں لکھا ہے:- ’’کیا آپ کے نزدیک تیرہ کروڑ مسلمانوں میں کوئی بھی سچّا خدا پرست راستباز نہیں۔کیا محمدی اثر اس تمام جماعت پر سے اُٹھ گیا۔کیا اسلام بالکل مُردہ ہوگیا۔کیا قرآن مجید بالکل بے اثر ہوگیا۔کیا رب العالمین ،محمدؐ ،قرآن ،فطرت اللہ اور عقل انسان بالکل معطل اور بیکار ہوگئے کہ آپ کی جماعت کے سوا نہ باقی مسلمانوں میں راست بازہیں۔نہ باقی دُنیا میں بلکہ تمام کے تمام سیاہ باطن سیاہ کا ر اور جہنمّٰ ہیں۔‘‘ مجھے اس جگہ اس امر پر بحث نہیں کہ اس کے ان خطوط کا حضرت مسیح موعودؑ نے کیا جواب دیا کیونکہ ان مسائل کے متعلق آگے بحث ہوگی۔اس وقت اسی قدر کہہ دینا کافی ہے کہ حضرت مسیح موعودؑ نے اس کے ان خطوط کےجوان میں لکھ دیا کہ :- ’’اگر آپکا یہ خیال ہے کہ ہزار ہا آدی جو میری جماعت مین شامل نہیں کیا راست بازوں سے خالی ہی تو ایسا ہی آپ کو یہ خیال بھی لرلینا چاہیے کہ وہ ہزار ہا یہود اور نصاریٰ جو اسلام نہیں لائےکیا وہ راست بازوں سے خالی تھے۔بہر حال جبکہ خدا تعالیٰ نے میرے پر ظاہر کیا ہے کہ ہر ایک شخص جسکو میری دعوت پہنچی ہے اور اس نے مجھے قبول نہیں کیا ہے وہ مسلمان نہیں ہے اور خدا کے نزدیک قابل مؤاخذہ ہے تو یہ کیونکر ہوسکتا ہے کہ اب میں ایک شخص کے کہنے سے جس کا دل ہزاروں تاریکیوں میں مبتلاء ہے خدا کے حکم کو چھوڑ دوں۔اس سے سہل تر یہ بات ہے کہ ایسے شخص کو اپنی جماعت سے خارج کردیا جاوے