انوارالعلوم (جلد 6) — Page 180
انوا را معلوم جلد 4 آئینه صداقت باب دوم اختلافات سلسلہ کی سیچی تاریخ کے صحیح حالات مولوی محمد علی صاحب نے اختلاف سلسلہ کے بیان کرنے میں جن غلط بیانیوں سے کام لیا ہے۔ ان کی تردید کے بعد اب میں اختلافات کے صحیح حالات تحریر کرتا ہوں ۔ تاکہ ہمارے وہ احباب جو اس وقت تک اس اختلاف کی حقیقت سے واقف نہیں اس سے آگاہ ہو جاویں اور وہ لوگ بھی جو سلسلہ میں تو داخل نہیں لیکن اس سے دلچسپی رکھتے ہیں اور اختلاف کو دیکھ کر شش و پنج میں ہیں اصل حالات کا علم حاصل کر کے کسی نتیجہ پر پہنچنے کے قابل ہو سکیں ۔ روحانی سلسلوں میں کمزور ایمان والے ہر ایک روحانی سلسہ میں کچھ لوگ ایسے بھی داخل ہو جاتے ہیں۔ جو گو اس کو سچا سمجھ کر ہی اس میں داخل ہوتے ہیں لیکن ان کا فیصلہ سطحی ہوتا ہے اور حق ان کے دل میں داخل نہیں ہوا ہوتا ۔ ان کا ابتدائی جوش بعض دفعہ اصل مخلصوں سے بھی ان کو بڑھا کر دکھاتا ہے۔ مگر ایمان کی جڑیں مضبوط نہ ہونے کی وجہ سے ہر وقت خطرہ ہوتا ہے کہ وہ مرکز سے ہٹ جائیں اور حق کو پھینک دیں۔ ایسے ہی چند لوگ حضرت مسیح موعود علیہ الصلواۃ والسلام کے سلسلہ میں بھی داخل ہوئے اور ان کی وجہ سے اور بہت سے لوگوں کو بھی ابتلاء آیا۔ خواجہ کمال الدین صاحب کا احمدیت میں داخلہ خواجہ کمال الدین صاحب جو دو کنگ مشن کی وجہ سے خوب مشہور ہو چکے ہیں میرے نزدیک اس سب اختلاف کے بانی ہیں اور مولوی محمد علی صاحب ان کے ہیںمیرے اختلاف بانی ہیں اور محمدعلی شاگرد ہیں جو بہت بعد ان کے ساتھ شامل ہوئے ہیں اور معلوم ہوتا ہے کہ چونکہ ہماری طرف سے تعدد دفعہ یہ بات شائع ہو چکی ہے کہ اصل میں واجہ صاحب کے دل میں ضرت مسیح موعود کے تعلق