انوارالعلوم (جلد 6) — Page 176
انوار العلوم جلد 4 144 آئینه صداقت دھریں۔ وہ خود دعوت مسنونہ کے رد کرنے کے مجرم ہیں ۔ اور ان کے اس فعل کے بعد ہم پر ہرگز د ادب نہیں ہے کہ ہم ان کی دعوت قبول کریں ۔ ان کی دعوت کا قبول کرنا اب بے غیرتی ہے اور مومن بے غیرت نہیں ہوتا ۔ میں نے تو مدت تک چاہا کہ ان لوگوں سے تعلقات قطع نہ ہوں اور یہ لوگ راستی کی طرح آدیں ۔ مگر مولوی صاحب نے شروع میں افتراق اور فساد میں اپنا فائدہ دیکھا۔ قادیان کو چھوڑ کر چلے گئے اور اپنی الگ انجمن بنائی اور مجھ پر طرح طرح کے انتظام لگائے اس کے بعد ان کا کیا حق ہے کہ وہ ہم سے میل جول کی درخواست کریں ۔ اول تو خلافت کا انکار کر کے اور جماعت کو فتنہ میں ڈال کر مولوی صاحب اور ان کے وہ ساتھی جو بانی فساد ہیں شرعاً اس امر کے بانی مستحق تھے کہ ان سے قطع تعلق کیا جائے اور بالکل ان سے علیحدگی اختیار کی جائے مگر جبکہ ان ۔ سے خاص رعایت کر کے ہم نے چاہا کہ ان سے میل جول کریں تو انہوں نے صاف انکار کر دیا ۔ اور با وجود بار بار کی درخواست کے ہماری دعوت کو رد کر دیا۔ اور اب اُلٹے ہم پر الزام لگاتے ہیں۔ فاضی محمد ظہور الدین صاحب اکمل کی تحریر مولوی صاحب اور ان کے رفقاء اس الزام کی تائید میں مکرمی قاضی محمد ظہور الدین صاحب مولوی محمد علی صاحب کے مفید مطلب نہیں ا کے ایک ہو کر وا دیا کرتے ہیں۔ حوالہ جس میں انہوں نے خواجہ صاحب کی آمد پر ان سے ہوشیار رہنے کے لئے جماعت کو توجہ دلائی تھی ۔ مگر ان کو یاد رکھنا چاہئے کہ اول تو یہ مضمون میرا نہیں بلکہ میری جماعت کے لوگوں میں سے ایک شخص کا خیال ہے ۔ دوم یہ کہ قاضی صاحب تو عام احمدیوں کو رئیس المفسدین کے متعلق ایک نصیحت کرتے ہیں ۔ عام مبالعین اور غیر مبائعین کے تعلقات یا دونوں فریق کے سر بر آوردوں کے آپس کے تعلقات کے متعلق کہاں ذکر کیا گیا ہے ۔ چنانچہ خود قاضی صاحب موصوف مولوی صاحب سے ملنے کے لئے پیغام بلڈنگس میں گئے تھے۔ مگر مولوی صاحب نے ان کی طرف بالکل توجہ نہ کی اور اکرام ضیف کا بھی خیال نہ رکھا ۔ مگر قاضی صاحب کا مضمون عام ہوتا تو وہ خود کیوں مولوی صاحب کو ملنے جاتے ۔ اصل بات یہ ¥ صحابہ کا فتویٰ ہے کہ جو شخص ہے کہ جو شخص خلافت کے بالمقابل کھڑا ہوتا ہے اس سے بالمقابل کھڑا ہوتا ہے اس سے قطع تعلق کیا جادے ۔ حضرت ابو بکر کی بیعت کے وقت جب بعض انصار نے سعد بن عبادہ کو دوسرا امام پیش کیا اور صحابہ نے دو امام تسلیم نہ کئے۔ تو سعد نے بیعت سے احتراز کیا ۔ گو احکام خلافت کے قبول کرنے سے انہوں نے کبھی انکارن کبھی انکار نہیں کیا ۔ اس پر حضرت عمر نے ان کے متعلق فرمایا کہ اقتُلُوا سَعدًا معنی سعد سے قطع تعلق کرو۔ چنانچہ صحابہ ان سے بالکل تعلق نہیں رکھتے تھے۔ دیر ابن ہشام عربی جلدم من ۳ مطبوعہ مصر (۱۹۳۶ء)