انوارالعلوم (جلد 6) — Page 174
تاریخ اختلاف سلسلہ کا دسواں امر دسویں بات مولوی صاحب یہ تحریر فرماتے ہیں کہ سیّد صاحب کے علاوہ اوربہت سے تعلیم یافتہ بھی میرے عقائد سے بیزار ہورہے ہیں۔اور میری مخالفت روز بروز نمایاں ہورہی ہے۔میں اس امر کے متعلق پہلے بھی لکھ آیا ہوں اوراب پھر لکھتا ہوں کہ خدا تعالیٰ کے فضل سے میری جماعت کے تمام لوگ الاماشاء للہ عقائد میں میرے متفق ہیں۔اور کیا عقل اس بات کو تجویز کرسکتی ہے کہ اس آزادی کے زمانہ میں جبکہ نہ میرے پاس حکومت ہے نہ طاقت تعلیم یافتہ لوگ میرے خیالات سے بیزار بھی ہوں اورپھر میرےساتھ بھی ہوں۔ان کا میرے ساتھ ہونا ہی اس امر کی علامت ہے کہ وہ میرے ہم خیال ہیں۔اوراگر فی الواقع مولوی صاحب کا یہ دعویٰ درست ہے تو کم سے کم سو۱۰۰ ایسے تعلیم یافتوں کی فہرست شائع کردیں۔جو میرے عقائد سے بیزار ہیںاوراگر ان کی مراد ان چند مرتدین سے ہے۔جو میری جماعت سے نکل کر ان کے ساتھ جا ملے ہیں تو مَیں اس بات کے لئے بھی تیار ہوں کہ مولوی صاحب ان لوگوں کی فہرست کا مقابلہ ان لوگوں کی تعداد سے کر لیں۔جو ان سے جدا ہوکر اللہ تعالیٰ کےفضل سے میری بیعت میں داخل ہوئے ہیں۔تاریخ اختلاف سلسلہ کا گیارہواں امر گیارہویں بات مولوی صاحب یہ تحریر فرماتے ہیں کہ بوجہ تنگ ظرفی کے ہیں احمدیوں کو فاسق کہتا ہوں۔مگر تعجب ہے کہ یہ الفاظ اس شخص کے منہ سے نکلتے ہیں جو اسی کتاب کے ابتدائی صفحات میں مجھے اور میرے ساتھیوں کو ضالّ کہہ چکا ہے۔کیا ضالّ زیادہ سخت لفظ ہے یا فاسق؟ ضالّ کالفظ تو ایسا سخت ہے کہ پانچ وقت کی نمازوں میں مسلمانوں کو حکم ہے کہ دُعا مانگیں کہ ہم ضالّ نہ ہوجائیں۔مگر باوجود اس کے مولوی صاحب ہمیں ضاّل کہتے ہیں۔دیکھو سپلٹ صفحہ ۳ تا ۸۔اگر کہیں کہ ہم تو قرآن کریم اور حدیث کے مطابق کہتے ہیں۔تو ہمارا جواب یہ ہے کہ ہم آپ کو سورہ نور کی آیت لَیَسْتَخْلِفَنَّھُمْ کے ماتحت فاسق کہتے ہیں۔جس میں خلفاء کےذکر کے ساتھ فرمایا ہے وَمَنْ کَفَرَ بَعْدَ ذٰلِکَ فَاُولٰئِکَ ھُمُ الفٰسِقُوْنَ(النور: ۵۶) اورآپ کے پاس تو ہمیں ضالّ کہنے کی کوئی دلیل نہیں جیسا کہ مَیں پہلے