انوارالعلوم (جلد 6) — Page 168
انوار العلوم جلد 4 14٨ آئینه صداقت خُدا کے بنائے ہوئے خلیفہ کو کوئی معزول نہیں کر سکتا اب میں ان الزامات کے متعلق کچھ لکھنا چاہتا ہوں ۔ جن کی وجہ سے کہا گیا ہے کہ مولوی سید محمد حسن صاحب نے مجھے خلافت سے معزول کیا ہے۔ گو ضمنا میں اس قدر کہہ دینا ضروری سمجھتا ہوں کہ خلیفہ خُدا ہی بناتا ہے اور اسی کی طاقت ہے کہ معزول کرے کسی انسان میں نہ خلیفہ بنانے کی طاقت ہے نہ معزول کرنے کی پس نہ تو میں مولوی سید محمد حسن صاحب کے ذریعہ سے خلیفہ بنا اور ان کے معزول کرنے سے معزول ہوا ۔ اللہ تعالیٰ کے فضل سے ان کے معزول کرنے کے بعد مجھے اور بھی ترقی عطا ہوئی اور ہو رہی ہے ۔ اس وقت کے بعد اس وقت پندرہ بیس ہزار آدمی نیا سلسلہ میں داخل ہو چکا ہے اور ترقی روز افزوں ہے ۔ اللَّهُمَّ زِدْ فَزِدْ سید محمد حسن صاحب کا بر بناء عقائد مجھ پر اعتراض درست سید صاحب نے جو اعتراضات مجھ پر کئے ہیں۔ ان کے متعلق میں علمی بحث اس جگہ نہیں کروں گا اور نہ یہ ثابت کروں گا کہ وہ عقائد درست ہیں یا غلط کیونکہ عقائد کے متعلق مفصل بحث آگے چل کر کی جاوے گی ۔ اس جگہ میں صرف اتنا کہنا چاہتا ہوں کہ سید صاحب موصوف کا مجھ پر ان عقائد کی وجہ سے اعتراض کرنا درست نہیں ۔ وہ بیشک کہہ سکتے ہیں کہ ان عقائد کی غلطی چونکہ ان پر ثابت ہو گئی ہے اس لئے وہ ان سے توبہ کرتے ہیں یا وہ کہ سکتے ہیں کہ ان عقائد کے علاوہ کوئی اور عقائد بدعیہ میں نے وضع کئے ہیں اس لئے وہ میری بیعت توڑتے ہیں۔ مگر ان عقائد کو نئے اور فاسد عقائد قرار دیگر میرے خلاف اعلان کرنا ان کا حق نہیں ۔ کیونکہ وہ اس سے بہت پہلے ان عقائد کے واقف تھے ۔ بلکہ جب میری بعیت ہوئی ہے اسی وقت ان کو معلوم تھا کہ میرے یہ عقائد ہیں۔ جیسا کہ مولوی محمد علی صاحب اقرار کر چکے ہیں۔ میرا مضمون کفر و اسلام پر تشمیذ الاذہان اپریل امہ کے پرچہ میں شائع ہو چکا تھا اور جیسا کہ وہ اقرار کرتے ہیں اس کے بعد بھی برابر میری طرف سے اس مسئلہ کے متعلق اظہار رائے ہو تا رہا ہیں جب حضرت خلیفہ اول کی زندگی میں غیر احمدیوں کو میں کافر قرار دے چکا تھا اور جماعت کا ہر ایک فرد اسی مسئلہ سے آگاہ تھا تو مولوی سید محمد احسن صاحب نے میری بیعت کی ہی کیوں تھی اگر یہ عقیدہ ایسا ہے کہ اس کے باعث انسان خلافت کے قابل نہیں رہتا ۔ تو کیا وجہ ہے کہ انہوں نے مسجد نور میں کھڑے ہو کر میری نسبت خلافت کی تجویز کی بڑے زور سے تائید کی اور اس پر تقریر کی۔ ان کو تو چاہئے تھا کہ جب لوگوں نے میری بیعت پر زور دیا تھا تو وہ اس کو رد کر دیتے اور فرماتے کہ یہ شخص تو مسلمانوں کو کافر کہتا ہے یہ خلافت کے لائق کیونکر ہو سکتا ہے ۔ کفر د اسلام کے مسئلہ پر تو میں نے بعد میں مفصل بحث کبھی کی ہی نہیں ۔ اصل مضمون جو