انوارالعلوم (جلد 6) — Page 166
انوار العلوم جلد 4 144 آئینہ صداقت اتنے تھوڑے ہیں کہ انشاذ کا معدوم کے مقولہ کے نیچے ہیں۔ مولوی سید محمد احسن صاحب سے پہلے اب میں ان باتوں کا جواب دیتا ہوں جو مولوی محمد علی صاحب نے سید محمد احسن صاب زمانہ کے لوگ میری بیعت میں شامل ہیں کے متعلق لکھی ہیں۔ اور سب سے پہلے یہ بتا دینا چاہتا ہوں کہ مولوی محمد علی صاحب نے مولوی سید محمد احسن صاحب کی نسبت جو یہ لکھا ہے کہ وہ زندہ لوگوں میں سب سے پرانے احمدی ہیں یہ غلط ہے ۔ ان سے پہلے کے بیعت کرنے والے لوگ اور اس وقت کے حضرت مسیح موعود سے اخلاص رکھنے والے لوگ جبکہ ابھی سید صاحب نے آپ کا نام بھی نہ سُنا تھا اس وقت زندہ موجود ہیں اور میری بیعت میں شامل ہیں ۔ چنانچہ شیخ حامد علی صاحب وہ ہیں جنہوں نے تیسرے نمبر پر حضرت مسیح موعود کی بیعت کی تھی منشی اروڑا صاحب تحصیلیدار کپور تھلہ ساتویں یا آٹھویں نمبر پر بیعت کرنے والے ہیں اور ہجرت کر کے کئی سال سے قادیان میں بیٹھے ہیں۔ یہ صاحب حضرت مسیح موعود کے خاص عاشقوں میں سے ہیں ۔ جیسا کہ خود حضرت اقدس ازالہ اوہام کے صفحہ ۴۳۲ پر ان کے متعلق لکھتے ہیں کہ ان کو اس عاجز سے ایک نسبت عشق ہے ؟ اور آپ کو بھی ان سے خاص محبت تھی جس سے تمام قادیان آنے والے اچھی طرح واقف ہیں ۔ آپ جماعت کپور تھلہ میں سے ہیں۔ جس کی نسبت حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں :- : میں امید کرتا ہوں کہ آپ لوگ اس دنیا اور آخرت میں خدا تعالیٰ کے فضل و کرم سے میرے ساتھ کمکتوب حضرت اقدس بنام محمد خان صاحب کپور تھلہ ہوں کے " مورخه ۲۷ جنوری ۱۸۹۴ منقول از بدر یکم اکتوبر ۱۹۰۸ء ص ) اسی طرح میر عنایت علی شاہ صاحب لدھیانوی ہیں۔ جنہوں نے نویں نمبر پر بیعت کی ۔ اسی طرح مولوی عبداللہ صاحب سنوری جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ایک بہت بڑے معجزہ کے محافظ ہیں اور جن کی نسبت حضرت مسیح موعود نے یہ پیشگوئی فرمائی ہے :- میں بخوبی اس بات پر مطمئن ہوں کہ خدا تعالیٰ نے آپ کے دل میں اخلاص اور محبت کوٹ کوٹ کر بھرا ہوا ہے اور آپ کو فطرتی مناسبت ہے اور ایسی محبت ہے کہ زمانہ کے رنگ بدلانے سے دور نہیں ہو سکتی " ( منقول از مکتوب حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوة و السلام بنام مولوی عبداللہ صاحب سنوری مؤرخہ ور مارچ ۱۹۰۸ ء ۔ یہ پورا خطہ اسی کتاب میں کسی دوسری جگہ درج کر دیا گیا ہے ) یہ بھی اللہ تعالیٰ کے فضل سے میرے مریدین میں شامل ہیں ۔ پھر منشی ظفر احمد صاحب ہیں کہ یہ بھی روحانی خزائن جلد ۳ صفحه ۵۳۲