انوارالعلوم (جلد 6)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 156 of 603

انوارالعلوم (جلد 6) — Page 156

انوار العلوم جلد 4 ۱۵۶ آئینه صداقت دہرانے کے میرا دل بند ہوتا جاتا ہے اور میں نے محسوس کیا کہ میں اگر اس طریق کو جاری رکھوں گا تو بیمار ہو جاؤں گا ۔ آخر دوسرے دن میں نے عبد الحی صاحب عرب سے کہا کہ میں تو بوجہ ادب دریافت نہیں کر سکتا ۔ آپ دریافت کریں کہ کیا جناب نانا صاحب کو حضرت خلیفہ المسیح نے خاص حکم دیا تھا یا عام سنی ہوئی بات ہے انہوں نے دریافت کیا تو معلوم ہوا کہ خاص حکم نہیں دیا تھا بلکہ کسی اور شخص کے متعلق یہ بات آپ نے سنی تھی کہ حکم د اس پر میں نے شکر کیا اور باوجود لوگوں کے روکنے کے برا بر الگ نمازہ ادا کرتا رہا ۔ اور ہمیں دن سے دن کے قریب جو ہم وہاں رہے یا گھر پر یا گھر پر نماز پڑھتے رہے یا مسجد کعبہ میں الگ اپنی جماعت کرا کے اور اللہ تعالیٰ کا فضل ہے کہ گو مسجد کعبہ میں چاروں مذہبوں کے سوا دوسروں کو الگ جماعت کی عام طور پر اجازت نہیں۔ مگر ہمیں کسی نے کچھ نہیں کہا بلکہ پیچھے رہے ہوئے لوگوں کے ساتھ مل جانے سے بعض دفعہ اچھی خاصی جماعت ہو جاتی تھی ۔ چونکہ جناب نا نا صاحب کو خیال تھا کہ ان کے اس فعل سے کوئی فتنہ ہوگا ۔ انہوں نے قادیان آگر حضرت خلیفہ المسیح کے سامنے یہ سوال پیش کرنے کا ارادہ ظاہر کیا ۔ ہماری واپسی کی خوشی میں قادیان کے احباب کے بعد دیگرے دعوت کر رہے تھے کہ ایک دن حضرت مسیح موعود کے پرانے خادم میاں حامد علی صاحب نے جو چالیس سال حضرت کے پاس رہے ہیں۔ ہماری چاٹے کی دعوت کی۔ حضرت خلیفہ اول - میر صاحب - میں اور سید عبدالحی عرب مدعو تھے ایک صاحب حکیم محمد عمر نے یہ ذکر حضرت خلیفہ اسیح کے پاس شروع کر دیا ۔ آپ نے فرمایا ہم نے ایسا کوئی فتویٰ نہیں دیا۔ ہماری یہ اجازت تو ان لوگوں کے لئے ہے جو ڈرتے ہیں اور جن کے ابتلاء کا ڈر ہے ۔ وہ ایسا کر سکتے ہیں کہ اگر کسی جگہ گھر گئے ہوں۔ تو غیر احمدیوں کے پیچھے نمازیں پڑھ لیں۔ اور پھر اگر دہرائیں سو الحمدلله کہ میرا یہ فعل جس طرح حضرت مسیح موعود کے فتویٰ کے مطابق ہوا ۔ اسی طرح خلیفہ وقت کے منشاء کے ماتحت ہوا۔ ایک شاید اس جگہ کسی شخص کو یہ خیال گزرے کہ حضرت مسیح موعود اعتراض اور اس کا جواب شاید ایس کے فتوی کی موجودگی میں حضرت خلیفہ المسیح کا ر اسی کا حکم سن کر کیوں غیروں کی اقتداء میں نماز ادا کی۔ تو اس کا یہ جواب ہے کہ صحابہ کے طریقی عمل سے یہ امر ثابت ہے کہ وہ خلیفہ وقت کے حکم کا ادب ضروری سمجھتے تھے خواہ اسے تسلیم نہ ہی کرتے ہوں ۔ چنانچہ بخاری اور دیگر کتب احادیث و تواریخ سے ثابت ہے کہ حضرت عثمان نے جب ایک دفعہ خلاف آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت کے منی میں حج کے دنوں میں سفر کے ایام ، بجائے دو کے چار رکعت ہی ادا کی تو بعض صحابہ میں جوش ہوا لیکن سب نے آپ کے پیچھے چار رکعت ہی نماز ادا کر لی۔ حضرت عبدالرحمن