انوارالعلوم (جلد 6) — Page 145
’’آ پ خاتم النّبیّٖن ہیں۔یعنی تمام کمالات جملہ انبیاء سابقین کے بھی آپ کو حاصل ہیں۔‘‘ (صفحہ ۶۱ ) ’’ مراد خاتم النّبیّٖن سے یہی ہے کہ آپ انتہاء درجا پر کمالات نبوت کے پہنچےہوئے ہیں۔نہ یہ کہ آپ کا فیضان نبوت کسی فرد کو افراد امت میں سے ہرگز نہیں پہنچ سکتا۔‘‘(صفحہ۶۴) اور نیز لکھتے ہیں۔’’اگر صرف انبیاء ماسبق کے ہی آپ نبی الانبیاء ہیں۔تو اوّل تو اسکا ثبوت کیا ہےصرف دعویٰ ہی دعویٰ ہوا جاتا ہے۔جس کی کوئی دلیل بیّن موجود نہیں۔کیونکہ آپ کے اتباع سے تو کوئی اس درجہ کو پہنچا ہی نہیں۔پھر دعویٰ نبی الانبیاء کا کیا ثبوت ہے۔دوسرے البتہ بموجب زعم مخالفین کے صرف ایک درجہ کمال کا تو آپ کو حاصل ہوگا۔مگر درجہ تکمیل کا نعوذ باللہ آپ کو حاصل نہ ہوا۔حالانکہ جن انبیاء کے آپ سردار ہیں ان کوبھی درجہ تکمیل کا حاصل تھا۔حضرت موسٰی کی اُمّت میں بھی صدہا نبی ان کی اتّباع کے طفیل سے ہوگئے ہیں حالانکہ موسٰی کا صرف اسقدر مرتبہ تھا کہ لَوْ کَانَ مُوْسٰی حَیًّا لَمَا وَسِعَہٗ اِلَّا اِتّبَاعِیْ ٭(صفحہ ۷۱) (الیواقیت والجواھر الامام شعرانی)اورپھر لکھتے ہیں کہ ’’خاتم النّبیٖن کے ان معنوں سے کس قدر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی عظمت و شان ثابت ہوتی ہے کہ جملہ انبیائے ماضین و آخرین آپ کے طفیلی رہے۔‘‘(صفحہ ۶۶) اور نیز لکھتے ہیں’’ہمارے دو دعوٰے ہیں۔اوّل تو یہ کہ بعد بعثت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے کوئی نبی شارع ہوکر قیامت تک نہیں آوے گا۔دوسرا دعویٰ یہ کہ بذریعہ اتّباع آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے واسطے تائیدِ دینِ اسلام کی عند الضرورتے نبی جزوی تابع نبوت کلیہ کے طفیلی ہوکر آسکتا ہے۔‘‘ (صفحہ ۶۳) تاریخ اختلاف سلسلہ کا پانچواں امر پانچواں قابلِ توجہ امر جو مولوی محمد علی صاحب نے تاریخ اختلافات سلسلہ میں لکھا ہے یہ ہے کہ جب ظہیرالدین اپنے عقائد پھیلا رہا تھا اس وقت مَیں نے حضرت مسیح موعود ؑ کی بیعت نہ کرنے والوں کے کفر کے مسئلہ کو چھیڑ دیا اور گو ظاہر یہ کیا گیا ہے کہ یہ مضمون حضرت خلیفہ اوّل کو دکھایا گیا ہے۔مگر حضرت خلیفہ اوّل نے اس مضمون کو جن معنوں میں لیا ہے۔اس کاپتہ اس طرح لگ جاتا ہے کہ خواجہ کمال الدین صاحب کے ایک خط پر حضرت مولوی صاحب نے دستخط کئے ہیں۔جس میں یہ لکھا ہے کہ ایم محمود کا مضمون صرف اسی صورت میں قابلِ قبول ہے جبکہ اس کے یہ معنے لئے جاویں کہ :- *الیواقیت الجواہر جلد ۲ ص ۲۱ میں یہ روایت ہے لو کان موسیٰ حیا ما وسعہ الا ان یتبعنی