انوارالعلوم (جلد 6)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 146 of 603

انوارالعلوم (جلد 6) — Page 146

"Those who did not accept the promised Messiah were only devier of or unbelievers in the promised Messiah and not actually outsied the pale of Islam۔"۸ پیشتر اس کے کہ مَیں مولوی محمد علی صاحب کے اس بیان پر واقعات کے رو سے تنقید کروں پہلے ان کے بیان ہی کی طرف توجہ دلاتا ہوں۔مولوی محمد علی صاحب نے خواجہ کمال الدین صاحب کے مضمون کا جو خلاصہ دیا ہے وہ ایسا بے معنے ہے کہ ہر ایک عقلمند اسے پڑھ کرحیران ہوتا ہوگا۔اس فقرہ کے کیا معنے ہوسکتے ہیں کہ جو شخص حضرت مسیح موعود کو نہیں مانتا وہ آپ کو نہیں مانتا؟ کیا کسی عقلمند کے نزدیک ایسا ممکن ہے کہ ایک شخص جو آپ کو نہ مانتا ہو وہ آپ کو مانتا ہو۔کیا اگر میرے مضمون کا مفہوم یہ قرار دیا جاوے تو وہ مجنونانہ مضمون نہیں۔اور کیا اس کے تصحیح کرکے حضرت خلیفۃ المسیح نے میرے مضمون کا یہ خلاصہ سمجھ کر اجازت دی تھی خود ہی بلا کسی بیرونی شہادت کے مولوی صاحب کی تردید نہیں کرتا؟ مولوی محمد علی صاحب کی تردید انہیں کے قول سے اس کے بعد میں مولوی صاحب کی تردید میں کود مولوی صاحب کے ہی بیان کو پیش کرتا ہوں۔مولوی صاحب اسی کتاب میں تحریر فرماتے ہیں کہ ایم محمود نے ان لوگوں کے کفر کے مسئلہ کو چھیڑ دیا جنہوں نے باقاعدہ طور پر مسیح موعودؑ کی بیعت نہیں کی تھی۔اب سوال یہ ہے کہ اگر میرے مضمون میں غیر احمدیوں کےکفر کی بحث نہ تھی بلکہ جیسا جکہ مولوی صاحب نے خواجہ صاحب کا قول نقل کیا تھا صرف یہی لکھا تھا کہ جو مرزا صاحبؑ کو نہیں مانتے وہ مرزا صاحب کو نہیں مانتے پھر ظہیر الدین کے بعد میں شائع ہونے والے ٹریکٹ کا نتیجہ میرے اس مضمون کو مولوی صاحب نے کیونکر قرار دے دیا۔اس امر کے ثابت کرنے کے لئےکہ جو مرزا صاحب کو نہیں مانتے وہ مرزا صاحب کو نہیں مانتے۔آپؑ کے نبی ہونے یا نہ ہونے کا کیا تعلق ہے یہ بات تو ہر ایک دعویٰ اورہر ایک حقیقت کے متعلق کہی جاسکتی ہے۔مَیں نبی نہیں ہوں۔مگر یہ فقرہ اگر اس کا کوئی مطلب ہے تو میری نسبت بھی کہا جاسکتا ہے کہ جو مجھے نہیں مانتے وہ مجھے نہیں مانتے۔نوبت کے مسئلہ کے نتیجہ میں اور اس سے متأثر ہوکر تو صرف کفر کا مسئلہ ہی چھڑا جاسکتا ہے۔پس مولوی صاحب کے بیان سے ہی ثابت ہے کہ میرے اس مضمون میں اسی مضمون پر بحث کی گئی تھی کہ حضرت مسیح موعودؑکے نہ ماننے والے کافر ہیں۔اور یہ بات ثابت ہے کہ میرے اس مضمون کو حضرت خلیفۃ لامسیح ؑنے شروع سےا ٓخر تک پڑھا اور اس کی اشاعت کی اجازت